ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 476
نو مسلمنہ ہوتی تو میں کعبہ کو توڑ کر اس میں دو دروازے بناتا۔ایک جانے کا ایک آنے کا۔اس پر شیعہ لوگ کہا کرتے ہیں کہ عائشہ کی قوم سے فتنہ کا خوف تھا، اس کی قوم اس کا باپ بھائی وغیرہ ہیں حالانکہ یہاں مراد قوم قریش ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ازروئے محبت عائشہ کی طرف نسبت کی۔غور کرو۔اللہ تعالیٰ آنحضرتؐ کو خطاب کرکے قرآن شریف میں فرماتا ہے۔(الزخرف : ۵۸)۔اے نبی تیری ہی قوم اس سے رکتی اور روکتی ہے۔پھر کیا حضرت عبداللہ اور ابوطالب اور مولیٰ مرتضیٰ ایسے تھے جیسے وہ حضرت ابوبکر کو خیال کرتے ہیں۔باب ۴۹ لَبَّیْکَ۔بار بار حاضر ہوں ہر وقت حاضر دربار ہوں۔سَعْدَیْکَ۔ہر وقت فرمانبرداری میں تیار ہوں۔ــــــــــــــــــــــــــــ