ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 471
باب ۲۲ خواب میں دودھ پیا جائے تو اس کی تعبیر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمائیہے کہ علم دودھ ہے۔تعبیر رؤیا میں ریاست جموں میں تھا۔میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے پاس ایک دودھ کا پیالہ ہے۔آدھا میں کسی کو پلا چکا ہوں باقی آدھا میرے پاس ہے۔اتنے میں نورالدین (تاجر کتب جموں) میرے پاس آیاوہ آدھا میںنے اس کو دیا اور اس نے پی لیا۔یہ خواب میں نے نورالدین کو سنائی تو میں نے کہا تم مجھ سے عمدہ علم پڑھو گے۔وہ ان دنوں کچھ ناراض تھے۔کہنے لگے میں تو آپ سے کچھ پڑھنا نہیں چاہتا۔کچھ عرصے کے بعد مولوی عبدالکریم صاحب (غَفَرَہُ اللّٰہ) نے کشمیر میں مجھ سے بخاری پڑھنی شروع کی۔جب وہ نصف ختم کرچکے تو اتفاقاً وہاں نور الدین بھی آگئے اور باقی نصف کے درس میں وہ بھی شامل ہوئے۔وہ تو خواب کے واقعہ کو بھول چکے تھے۔جب بخاری کو ختم کرچکے تو میں نے انہیں یاد دلایا کہ دیکھو خواب کیسی سچی نکلی اور بخاری کی کیسی عظمت ثابت ہوتی ہے۔کیا تمہارا جی نہیں چاہتا کہ میں تم کو وہ دودھ پلائوں ؟ میری بیماری اور کمزوری چاہتی ہے کہ مجھے ناامید کردے مگر ہمت بلند ہے۔اللہ نصرت فرمائے۔بعض نے کہا ہے کہ ہم کیوں اس کے لئے دعا مانگیں۔کبھی اس نے ہم کو کہا ہے ہم تو ملائکہ کی طرح تمہارے لئے دعا کریں گے۔باب ۲۴ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بعض باتوںکا جواب ہاتھ کے اشارے سے دیا اور بعض باتوں کا جواب سر کے اشارے سے دیا مگر انبیاء آنکھوں کے اشارے نہیں کیا کرتے۔نکتہ کسی صحابی نے کوئی چھوٹی بات بیان نہ کی۔چھوٹی چھوٹی باتوں کو اہم بنانے سے فساد پیدا ہوتا ہے۔مثلاً داڑھی منڈانا، ٹخنوں پر پاجامہ وغیرہ۔ایسی باتیں ایمان کے مقابلہ میں چھوٹی ہیں مگر لوگ ضروریات ایمانیہ پر اتنا زور نہیں دیتے جتنا ان امور پر۔باب ۲۹ بَرَکَ۔صحابہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بات کرنے کو بیٹھتے تو