ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 468 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 468

خیال یا قیاس سے ایسی بات بول سکتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجلس میں تین آدمی آئے۔ایک نے تو حلقہ میں خالی جگہ دیکھی وہاں بیٹھ گیا۔دوسرا حیاء کے سبب پیچھے ہی بیٹھ گیا۔تیسرے نے سوچا کہ جگہ تو ہے نہیں اور پیچھے بیٹھنے سے کچھ سنائی نہیںدیتا وہ چلا گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب وعظ سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا۔تین آدمی آئے۔ایک نے اللہ سے جگہ چاہی اسے جگہ مل گئی۔دوسرے نے حیاء کیا اللہ بھی اس سے حیاء کرے گا اس کے گناہوں کا مؤاخذہ نہ ہوگا۔تیسرے نے منہ پھیر لیا اللہ تعالیٰ نے اس سے منہ پھیر لیا۔فائدہ نیک لوگوں کی مجلس میں چلے جانا بہرحال فائدہ مند ہے۔کوئی بات سننے یا کرنے کا موقع ملے یا نہ ملے ان کی مجلس میں جا بیٹھنا بھی فوائد کا موجب ہوتا ہے۔ایڈیٹر۔میرا اور کئی ایک دوستوں کا تجربہ ہے جنہوں نے میرے سامنے ذکر کیا کہ کیسا ہی دل پر انقباض ہو یا کوئی غم و ہم وارد ہو۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام یا حضرت خلیفۃ المسیح کی مجلس میں جابیٹھیںتو فوراً ایک انبساط اور فرحت اور تسکین حاصل ہوتی ہے۔نکتہ علم حدیث کے پڑھنے کے فوائد میں سے۔ایک یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھنے کا بہت موقع ملتا ہے۔دوم۔انسان کلمات طیبات سنتا ہے۔سوم۔خیالات میں وسعت پیدا ہوجاتی ہے۔چہارم۔پاک لوگوں کا ذکر پڑھ کر تحریص پیدا ہوتی ہے۔پنجم۔بے جا تنقید اور کورانہ حالت سے انسان نکل جاتا ہے۔جب دیکھتا ہے کہ کیسے کیسے علماء دوسروں سے آزاد ہوئے تھے۔اَلْعِلْمُ قَبْلَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ۔کسی بات کے کہنے یا کسی کام کے کرنے سے پہلے اس کا علم حاصل کرنا چاہیے۔