ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 469
باب ۱۰ اَلْعُلَمَآئُ وَرَثَۃُ الْاَنْبِیَآئِ۔علم والے انبیاء کے وارث ہوتے ہیں۔انبیاء نے ورثہ میں علم عطا کیا ہے اور یہی سب سے بڑی نعمت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (فاطر : ۲۹)۔علم والے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔مگر بڑے دکھ کی بات ہے کہ آجکل جو لوگ علم والے کہلاتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں۔ایک مولوی نے خود مجھ سے ذکر کیا کہ میں نے جب تک علم نہ پڑھا تھا خدا تعالیٰ سے بہت ڈرتا تھا مگر جب سے علم پڑھا ہے خدا تعالیٰ کا خوف بالکل دل سے اٹھ گیا ہے۔ایک شخص حج کر کے آیا تھا۔اسے ایک گواہی پر جانا پڑا جہاں جھوٹ بولنا چاہتا تھا مگر کہا کہ میں ابھی حج کرکے آیا ہوں۔گواہی دلانے والوں نے کہا کچھ ہرج کی بات نہیں پھر حج کر لینا۔اَلْعِلْمُ بِالتَّعَلُّمِ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ علم سیکھنے سے حاصل ہوتا ہے۔بعض لوگ ایسا گمان کرتے ہیںکہ ہم کسی ولی اللہ کے پاس چلے جاویں اور اس کی چُھو کرنے سے سارا علم حاصل ہوجائے گا۔حُلَمَآئُ۔حلم والے۔تحمل والے۔فُقَہَآئُ۔سمجھ والے۔رَبَّانِیٌّ۔وہ لوگ جو چھوٹے علم پہلے پڑھاتے ہیں اور بڑے بعد میں۔باب ۱۱ یَتَخَوَّلُھُمْ بِالْمَوْعِظَۃِ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بہت ہی احتیاط کرتے۔موقع محل دیکھتے تب وعظ کرتے۔ایسا نہ ہو کہ لوگ ملال کریں اور ان کو نفرت حاصل ہو۔ٹیچر توجہ کریں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بچوں کو نرمی سے پڑھائو اگر تنگ ہوں تو ان کو خوشخبری دو۔باب ۱۳ مَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ۔جس کو خدا تعالیٰ چاہے دین کی سمجھ دے دے۔یہ ضروری نہیںکہ سارے مسلمان سمجھ دار ہی ہوں۔