ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 467
سب لوگ سن لیں۔کوئی شک و شبہ نہ رہے۔باب۴ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا۔ایک درخت ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے اور مسلمانوں کی مثال اس درخت سے ہے بتائو وہ کون سادرخت ہے۔پھر فرمایا۔وہ نخلہ ہے کھجور۔مسلمانوں کو کجھور کے درخت کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔علم نباتات میں لکھا ہے کہ تمام درختوں میں کامل کھجور کا درخت ہے۔اس کا کوئی جزو بے کار نہیں ہوتا۔مسلمانوں کو چاہیے کہ ایسا ہی مفید اور بابرکت بنیں جیسا کہ کھجور کا درخت۔اور اس کا فیض ایسا ہی اعم ہو جیسا کہ کھجور کا کہ اہل عرب کی تمام حوائج صرف اس درخت سے پوری ہوجاتی ہیں۔باب۶ باہر سے ایک آدمی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں آیا۔لوگوں سے پوچھا۔اَیُّکُمْ مُحَمَّدٌ۔محمد کون ہے(صلی اللہ علیہ وسلم)۔لوگوںنے اشارے سے بتایا وہ سفید رنگ کا شخص جو تکیہ لگائے بیٹھا ہے۔پس وہ آگے بڑھا اور کہا۔اے عبدالمطلب کے بیٹے۔آپ نے فرمایا۔اَجَبْتُکَ۔میں نے تیری بات سن لی ہے۔باب۷ مُنَاوَلَۃُ۔ایک صحیح حدیث کی کتاب استاد اپنے شاگرد کو دے دیوے اور اس سے روایت کرنے کی اجازت دے دے اسے مناولت کہتے ہیں۔امام بخاری اسے جائز سمجھتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ علم کی بات لوگوں کو سمجھائو۔ممکن ہے کہ جو تم اس کی تہ کو نہ پہنچے وہ تم سے بڑھ کر …… اور سمجھیں اور فائدہ اٹھاویں اور تم کو بھی ثواب ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ کو ایک تبلیغی خط لکھا۔جب اس نے پڑھا تو پھاڑ ڈالا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا۔یُمَزِّقُوْا کُلَّ مُمَزَّقٍ۔وہ بھی بالکل پھاڑ ڈالے جائیں گے۔یہ ایک معجزانہ پیشگوئی تھی جو پوری ہوئی۔یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی ایک بڑی دلیل ہے۔کون ہے جو اپنے