ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 466
کتاب العلم باب۱ علم کے بڑے درجات ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی حکم ہوا ہے کہ دعا کرو۔(طٰہٰ : ۱۱۵)۔اے رب میرے علم کو زیادہ کر۔باب۲ سَاعَۃُ۔کسی قوم کے تباہ ہونے کی ساعت، ساعت ہے۔کسی کی ترقی کی گھڑی ساعت ہے۔ادب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک بات کررہے تھے درمیان میں ایک شخص نے ایک سوالپیش کردیا۔آنحضرتؐ نے اس کے سوال پر اس وقت توجہ نہ کی۔طریق ادب یہ ہے کہ بات ختم ہولے تب کچھ دریافت کیا جاوے۔اِذَا وُسِّدَ الْاَمْرُ اِلٰی غَیْرِ اَھْلِہٖ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گھڑی کی نشانیوں میں سے یہ فرمائی ہے کہ وہ گھڑی اس وقت آئے گی جبکہ کام نااہل لوگوں کے سپرد کیا جائے گا۳؎۔اس حدیث کے سمجھنے میں بعض لوگوں نے غلطی کھائی ہے۔قرآن شریف میں بھی آیا ہے (النساء : ۵۹) اللہ تعالیٰ تمہیں حکم کرتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کے سپرد کرو۔یہاں امانت سے مراد رعیت ہے اور مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوںکو حاکم بنائو جو حکومت کرنے کی لیاقت اپنے اندر رکھتے ہوں۔رعیت کے آرام ، مال، ننگ و ناموس و جانوں ان کی عقل کا لحاظ رکھیں۔رعیت کو حکم ہے کہ (النساء : ۶۰) اور حاکم کو حکم ہے کہ (النساء : ۵۹)۔وہ حکام کی اطاعت کریں یہ عدل و انصاف کے ساتھ حکومت کریں۔باب۳ رَفَعَ صَوْتَہُ بِالْعِلْمِ۔علم کی بات کھول کر بیان کردے۔خوب اچھی آواز سے جس کو