ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 456 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 456

دجل کا جال کہاں سے پھیلنا شروع ہوا ہے اور کہاں تک اس کا اثر جائے گا۔تھوڑے ہی الفاظ سے میں جان گیا کہ بشپ صاحب کہاں سے شروع ہوئے اور کہاں پہنچیں گے۔میں نے محسوس کیا کہ یہ حملہ نادان لوگوں کے ایمان پر بہت سخت ہے لیکن دوسری طرف جب میں نے نظر کی تو مولوی ملّانوں اور انجمن کے بزرگوں میں سے کسی کو میں نے نہ پایا کہ وہ اس وقت کافی جواب دے سکیں گے۔اس خیال نے میرے دل پر ایک بڑا بھاری بوجھ رکھ دیا اور دین محمدی کی حمایت نے میرے خون کو جوش دیا۔میرے پاس اس وقت کوئی کتاب نہ تھی اور نہ ہی کتاب دیکھنے کا وقت تھا اور نہ میں اپنے بزرگ مولویوں کو اور اپنے مرشد و ہادی جو کسر صلیب کے واسطے مبعوث ہوکرآیا ہے اس وقت اطلاع کرسکتا تھا کہ وہ آوے اور دیکھے کہ نبیوں کے سردار ، پاکوں کے پاک، راستبازوں کے راستباز کو گناہ گار اور خطا کار ثابت کرنے کے واسطے کس قدر کوشش کی جارہی ہے۔سب طرف میں نے اسلام کو گونگا ہوا پایا اور اس کا کوئی شہسوار میدان کے اندر نہ دیکھتا تھا۔تب میں نے سوچا کہ اس وقت سوائے دعا کے اور کوئی ہتھیار میرے پاس نہیں کیونکہ سب دور ہیں پر خدا بہت نزدیک ہے۔تب میں نے اپنے سردار محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عزت کے نام کے واسطے دردناک ہوکر اپنے خدا سے دعا مانگنے لگا اور دو گھنٹہ تک کہ پادری صاحب نے لیکچر دیا میں دعا کرنے اور درود شریف کو پڑھنے میں جوش اور درد کے ساتھ مصروف رہا۔یہاں تک کہ خدا تعالیٰ نے اپنی رحمت کا نزول مجھ پر کیا اور آیت  (المائدۃ :۶۸) کے معنے میرے دل پر نازل فرمائے اور میرے سینے کو ایک انشراح عطا فرمایا اور سارے بوجھ کو میرے اوپر سے اتار دیا اور مجھے ایک ہمت اور شجاعت عطا کی کہ میں خود اس میدان میں نکلوں۔تب فریق مخالف کے دلائل مجھے بہت ہی حقیر نظر آئے اور کسی کا رعب تو پہلے ہی میرے دل پر نہ تھا۔پس میں تیار ہوگیا کہ بشپ صاحب کے بیٹھتے ہی میں کھڑا ہو کر اپنی تقریر شروع کروں اور اسلام کی حمایت کروں اور خدا کے حبیب کی عزت کو اس میدان میں قائم رکھوں۔چنانچہ جیسے ہی بشپ صاحب بیٹھ گئے تو میں کھڑا ہوگیا سب سے پہلے میں نے لارڈ