ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 455
اندر چلے گئے۔تھوڑی دیر میں لارڈ پادری صاحب بمع چند اور عیسائی انگریز اور دیسیوں کے تشریف لائے۔لوگ بہت کثرت سے جمع ہوچکے تھے۔کئی ہزار آدمی موجود تھا۔بنچوں اور گیلری کے سوائے بہت سے لوگ زمین پر اور چبوترے پر بیٹھے تھے پا نیچے کھڑے تھے۔اس قدر آدمی کثرت سے جمع ہوگئے تھے کہ بالآخر باہر کا دروازہ بند کردیا گیا تھا۔بشپ صاحب نے اپنا لیکچر شروع کیا۔قرآن شریف کی آیات اور احادیث پڑھ پڑھ کر یہ ثابت کرنا شروع کیا کہ تمام انبیاء گنہگار تھے۔ان کا دعویٰ تھا کہ میں ہر ایک بات قرآن شریف سے ثابت کروں گا۔چنانچہ آدم کا ذکر کیا کہ قرآن مجید لکھا ہے کہ (طٰہٰ : ۱۲۲) اورآدم نے گناہ کیا۔ایسا ہی حضرت موسیٰ کا ذکر کیا اور دوسرے انبیاء کا ذکر کیا اور بالآخر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کیا۔ایک تو قرآن شریف کی یہی آیت پڑھی جو اوپر لکھی ہے اور ایک یہ آیت پڑھی (محمد :۲۰) اور ایک حدیث پڑھی کہ مریم اور اس کے بیٹے کے سوائے باقی سب کی ولادت میں شیطان کا حصہ ہے اور پھر کہا کہ دیکھو تمام انبیاء کے متعلق یہ بیان ہے کہ انہوں نے گناہ کیا تھا خواہ وہ گناہ بعد میں معاف ہی ہوگیا ہو۔تاہم کیا تو تھا لیکن ہمارے عیسیٰ کے متعلق کہیں یہ لفظ نہیں کہ اس نے کوئی گناہ کیا۔اور انجیل میں بھی لکھا ہے کہ وہ نور تھا۔پس ثابت ہوا کہ دنیا میں اگر کوئی معصوم ہے تو صرف یسوع مسیح ہے باقی سب گنہگار ہیں۔پس بھائیو ! ہم کس کو اپنا شفیع بنائیں۔کیا اس کو جو گنہگار ہے یا اس کو جو بے گناہ ہے۔بشپ صاحب نے اس تقریر پر دو گھنٹے خرچ کئے۔درمیان میں حدیث کے موقع پر بعض مسلمان بولے کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے یا صحیح الفاظ اس طرح سے نہیں ہیں مگر بشپ صاحب نے درمیان میں بولنے سے لوگوں کو منع کیا اور کہا کہ بعد میں پندرہ منٹ اس بات کے واسطے رکھے گئے ہیں۔چونکہ عاجز کو پادریوں کے ساتھ ملنے اور گفتگو کرنے اور ان کی کتابوں کے مطالعہ کرنے کا بہت موقع ملتا رہا ہے۔اس واسطے میں بشپ صاحب کے ابتدائے تقریر ہی سے سمجھ گیا تھا کہ یہ