ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 441
بَلَغَ مِنِّی الْجُھْدَ۔مجھے بڑی طاقت خرچ کرنی پڑی، بہت زور لگانا پڑا۔امام بخاری علیہ الرحمۃ نے وحی کے ابتداء کی حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی زبان سے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت اثبات ثبوت (جو کہ اہم مسئلہ ہے) میں لی تا کہ ان لوگوں کا بھی ردّ ہوجائے جو کہا کرتے ہیں کہ ان ہر دو بیبیوں کا آپس میں نقار تھا۔عَمِیَ۔اس کی نظر بسبب بڑھاپے کے کمزور ہوگئی تھی۔یہ مطلب نہیں کہ بالکل اندھا تھا۔نَامُوْس۔حضرت موسیٰ علیہ السلام صاحب شریعت نبی تھے۔یہاں اس کے مثیل کا انتظار تھا اس واسطے ناموس کا نام لیا۔اِبْنُ عَمّ۔بعض روایات میں اَیْ عَمّ آیا ہے۔تعجب نہیں کہ اَیْ کا لفظ لکھتے ہوئے بعد میں ابن لکھا گیا ہو۔اَنْصُرْکَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا۔کمر باندھ کر تیری مدد کروں۔پنجابی میں کہتے ہیں لک بنھ کے تیرے نال ہو جاواں۔فَتَرَ الْوَحْیُ۔وحی کا آنا رک گیا۔کچھ مدت تک پھر وحی نہیں آئی۔حَمِیَ وَ تَتَابَعَ۔گرم ہوگئی اور کثرت سے آنے لگی۔کیا معنے ؟بہت وحی نازل ہونے لگی۔بَوَادِرُ۔کندھے اور گردن کے درمیان کے گوشت کو کہتے ہیں۔ح۔حدیث کے راویوں کے درمیان جو حرف ح آتا ہے اس سے یہ مراد ہوتی ہے کہ وہی حدیث اور سندوں سے بیان کی جاتی ہے اور اوپر کے سلسلہ میں مل جاتی ہے۔اس حرف کو حا کرکے بولتے ہیں مطلب یہ ہوتا ہے کہ اُحَوِّلُ بِسَنَدٍ کیا معنے ؟ کہ سند کو پھیر کر بیان کرتا ہوں۔باب۴ (القیامۃ :۱۷)۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ساتھ ساتھ پڑھتے جاتے تھے یا چاہتے تھے کہ سب یک دم نازل ہوجائے۔باب۵ اَجْوَدُ۔جواد ، سخی، خبر گیر تھے۔اَرِیْحِی۔وہ شخص ہوتا ہے جو کسی کو کچھ دینے کے بعد بہت خوش ہوتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بڑے سخی تھے مگر ماہِ رمضان میں بہت ہی زیادہ