ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 438
ہونا نہایت درجہ محال تھا۔مثلاً فرشتہ ملک الموت جو ایک سیکنڈ میں ہزارہا ایسے لوگوں کی جانیں نکالتا ہے جو مختلف بلاد و امصار میں ایک دوسرے سے ہزاروں کوسوں کے فاصلہ پر رہتے ہیں اگر ہر یک کے لئے اس بات کا محتاج ہو کر اوّل پیروں سے چل کر اس کے ملک اور شہر اور گھر جاوے اور پھر اتنی مشقت کے بعد جان نکالنے کا اس کو موقع ملے تو ایک سیکنڈ کیا اتنی بڑی کارگزاری کے لئے تو کئی مہینے کی مہلت بھی کافی نہیں ہوسکتی۔کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شخص انسانوں کی طرح حرکت کرکے ایک طرفۃ العین کے یا اس کے کم عرصہ میں تمام جہان کو گھوم کر چلا آوے۔ہرگز نہیں بلکہ فرشتے اپنے اصلی مقامات سے جو ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہیں ایک ذرہ کے برابر بھی آگے پیچھے نہیں ہوتے جیسا کہ خدائے تعالیٰ ان کی طرف سے قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ ۱؎ سورۃ صافات جزء ۳۳۔پس اصل بات یہ ہے کہ جس طرح آفتاب اپنے مقام پر ہے اور اس کی گرمی و روشنی زمین پر پھیل کر اپنے خواص کے موافق زمین کی ہر یک چیز کو فائدہ پہنچاتی ہے اسی طرح روحانیات سماویہ خواہ ان کو یونانیوں کے خیال کے موافق نفوس فلکیہ کہیں یا دساتیرا اوروید کی اصطلاحات کے موافق ارواح کواکب سے ان کو نامزد کریں یا نہایت سیدھے اور موحدانہ طریق سے ملائک اللہ ان کو لقب دیں٭۔در حقیقت یہ عجیب مخلوقات اپنے اپنے مقام میں مستقر اور قرار گیر ہے اور بہ حکمتِ کاملہ خداوند تعالیٰ زمین کی ہریک مستعد چیز کو اس کے کمال مطلوب تک پہنچانے کے لئے یہ روحانیات خدمت میں لگی ہوئی ہیں۔ظاہری خدمات بھی بجالاتے ہیں اور باطنی ٭ حاشیہ۔مَلائک اس معنی سے ملائک کہلاتے ہیں کہ وہ ملاک اجرام سماویہ اور ملاک اجسام الارض ہیں یعنی ان کے قیام اور بقاء کے لئے روح کی طرح ہیں اور نیز اس معنے سے بھی ملائک کہلاتے ہیں کہ وہ رسولوں کا کام دیتے ہیں۔منہ ۱؎ الصّٰفّٰت : ۱۶۵، ۱۶۶