ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 437 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 437

جب موسیٰ کو آل فرعون نے صندوق میں سے نکالا اور انہیں اس کے واسطے دودھ پلانے والی کی تلاش ہوئی اور وہ کسی کا دودھ نہ پیتے تھے تو حضرت موسیٰ کی ہمشیر وہاں پہنچیں اور کہا کہ میں تمہیں ایک اہل بیت بتلاتی ہوں۔تمہارے لئے اس بچے کی پرورش کرے اور خیر خواہی سے کرے۔(پارہ ۲۰ رکوع ۴) ۳۔ (الاحزاب :۳۴)۔آنحضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیبیوں کو حکم ہوتا ہے اپنے گھروں میں ٹکی رہو۔پہلی جاہلیت کے زمانہ کے نمائشی بنائو سنگار نہ کرو۔نماز قائم رکھو، زکوٰۃ دو۔اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ضرور اللہ کا ارادہ ہے کہ تم سے بدی کو دور کرے اور تمہیں بالکل پاک و صاف کردے۔غور کرو ان تمام جگہوں میں اہل بیت بیبیاں ہیں اور کے آگے پیچھے بیبیوں کا ہی ذکر ہے۔باب۲ صَلْصَلَۃَ الْجَرَسِ۔ٹلّی کی آواز۔فرمایا۔بعض دفعہ وحی اس طرح آتی تھی جس طرح کی ٹلّی کی آواز ہوتی ہے۔فَیُفْصَمُ۔اَلْفَصْمُ۔اَلْقَطْعُ۔جدا ہوجاتی تھی۔جب وہ حالت الگ ہوجاتی تھی۔یَتَمَثَّلُ لِیَ الْمَلَکُ رَجُلًا معلوم ہوا کہ فرشتے اپنے اصل وجود کے ساتھ نہیں اترا کرتے بلکہ تمثیلی وجود ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کی تفصیل اپنی کتاب توضیح مرام میں کی ہے جو کہ فائدہ عام کے واسطے اس جگہ درج کی جاتی ہے۔’’محققین اہل اسلام ہرگز اس بات کے قائل نہیں کہ ملائک اپنے شخصی وجود کے ساتھ انسانوں کی طرح پیروں سے چل کر زمین پر اترتے ہیں اور وہ یہ خیال ببداہت باطل بھی ہے کیوں کہ اگر یہی ضرور ہوتا کہ ملائک اپنی اپنی خدمات کی بجاآوری کے لئے اپنے اصل وجود کے ساتھ زمین پر اترا کرتے تو پھر ان سے کوئی کام انجام پذیر