ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 436 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 436

امام علیہ الرحمۃ قول اللّٰہ عزّ وجلّ۔ (النساء :۱۶۴)۔اس جگہ لائے ہیں کہ ہم نے تیری طرف وحی کی جیسا کہ نوح کی طرف ہم نے وحی کی تھی اور اسی واسطے امام بخاری علیہ الرحمۃ نے ابتدائے وحی کا باب باندھا مگر سب سے پہلی حدیث جو لائے ہیں وہ ہے اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ۔کیا معنے؟ ارادی کام ارادہ پر موقوف ہیں۔جیسی نیت ویسے پھل۔گندم از گندم بروید َجو ز َجو۔از مکافات عمل غافل مشو۔جو آگ کھائے گا اس کا منہ جلے گا۔حدیث کو جمع کرنے کا عظیم الشان کام اور اس کا ابتداء نزول وحی کے بیان سے کیا لیکن امام صاحب علیہ الرحمۃ ڈر گئے کہ کتاب کا لکھنا، لکھانا، پڑھنا پڑھانا، خرید کرنا، اس کا سننا یہ سب مخلوق الٰہی کا بہت سا وقت اور محنت اور روپیہ لے گا ایسا نہ ہو کہ یہ ضائع ہوجائے اور بے سود ثابت ہو اس واسطے ضروری ہے کہ پہلے اپنی نیتوں کو درست کرلو اور پھر اسے شروع کرو۔اہل بیت امام بخاری علیہ الرحمۃ نے بڑی حکمت سے نزول وحی کے متعلق سب سے پہلی حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی لی ہے۔عائشہ ایک عظیم الشان عورت تھی اوروہ جوان تھی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سب حالات پوچھ سکتی تھی۔امام بخاری نے اس میں اشارہ کردیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیاں اہل بیت میں تھیں۔قرآن شریف سے بھی ایسا ہی ظاہر ہوتا ہے۔کلام پاک میں اہل بیت کا لفظ تین جگہ آیا ہے اور ہر جگہ بیبیوں کے متعلق بولا گیا ہے۔۱۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بی بی کے متعلق    (ھود :۷۴)۔حضرت ابراہیم کو جب بیٹے کی خوشخبری دی گئی تو بی بی سارہ نے تعجب کیا۔تب خوشخبری دینے والوں نے کہا۔اے اہل بیت کیا تو اللہ کے حکم، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتوں پر جو تم پر میں تعجب کرتی ہو۔بے شک وہ پاک ذات تعریف کیا گیا بزرگی والا ہے۔(پارہ ۱۲ رکوع ۷) ۲۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ماں کے متعلق (القصص :۱۳)۔