ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 435 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 435

بِسْـمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْــــمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ پارہ اوّل کتاب بدء الوحی باب ۱۔ابتدائے وحی امام بخاری علیہ الرحمۃ نے پہلا باب یہ بنایا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ و سلم پر وحی الٰہی کا ابتداء کس طرح سے ہوا۔بایں الفاظ دیگر اسلام کا ابتداء کس طرح سے ہوا۔نکتہ۔وحی کے بہت سے اقسام ہیں۔۱۔زمین کو بھی وحی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ الزلزال میں فرمایا ہے۔  (الزلزال :۶)۔بسبب اس کے کہ تیرے پروردگار نے اسے (زمین کو ) وحی کی۔۲۔آسمان کو وحی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ (حٰمٓ السجدۃ :۱۳) اور ہر آسمان کا کام اس میں وحی کیا گیا۔(پارہ ۲۴) ۳۔حیوانات کو وحی ہوتی ہے۔قرآن شریف میں آیا ہے۔ (النحل : ۶۹)۔۴۔عورتوں کو وحی ہوتی ہے۔قرآن شریف میں ہے۔(القصص :۸) اور ہم نے موسیٰ کی ماں کو وحی کی۔۵۔عام مومنوں کو بھی وحی ہوتی ہے۔جیسا کہ فرمایا۔(المائدۃ :۱۱۲) اور جبکہ ہم نے حضرت عیسیٰ کے مخلصوںکو وحی کی۔یہ سب وحیاں ہیں مگر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو وحی ہوئی وہ بہت اعلیٰ شان رکھتی ہے۔اس سے مراد یہ وحیاں نہیں ہیں بلکہ اس کی شان بہت بلند ہے۔اس واسطے