ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 42
سوم۔تمام مذاہب جو خدا کی طرف سے ہونے کے مدعی ہیں ان میں یہ امر مشترک پایا جاتا ہے کہ وہ دعا کے قائل ہیں۔الفاظ دعا میں خواہ اختلاف ہو مگر اصل دعا میں کسی کو اختلاف نہیں اب یہ بات بھی دنیا میں نبی کریم ﷺ اور صرف نبی کریم ﷺکو حاصل ہے کہ ان کے متبعین ان کے لئے دن رات کے ہر ایک حصے میں دعائے ترقی درجات مانگتے ہیں۔کسی مذہب کا ہرگز ہرگز کوئی مقتدا نہیں جس کے لئے اس کے مقتدیوں نے اس قدر دعا کی ہو۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ پردرود کم از کم ہر نماز میں پڑھا جاتا ہے اور زمین گول ہے۔پس دنیا میں ہر ایک وقت کسی نہ کسی نماز کا وقت رہتا ہے اور نماز میں ضرور پڑھاجاتا ہے جس میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ترقی درجات وازدیاد برکات کے لئے خلوص بھرے دلوں سے دعا کی جاتی ہے۔عیسائی مسیح کے لئے دعا ہی نہیں کرتے اور ایسا ہی ہندو سری رامچندر و کرشن جی کے لئے اس کی ضرورت نہیں سمجھتے ہاں مسلمان ہیں جو اپنے محسن نبی کے لئے دعائیں کرتے ہیں اور تیرہ سو برس سے بتَوالی آنائِ لیل ونَہَار اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ پڑھ رہے ہیں۔پھر دنیا میں مومن مسلمان جو نیک کام آپ ؐ کی تحریک وارشاد کے ماتحت کرتا ہے اس کا ثواب بھی آپ ؐ کو ملتا ہے۔پس اس لحاظ سے بھی آپؐ ہی کی ذات بابرکات خاتم النبیین ٹھہرتی ہے۔شفاعۃ النّبی بعض لوگ حضرت نبی کریم ﷺ کے شافع ہونے کا ثبوت قرآن مجید سے طلب کرتے ہیں۔ان کے لئے یہ آیت حجت قویہ ہے۔ (الزخرف : ۸۷) اور جن کو یہ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ شفاعت کے مالک نہیںہاں یہ بات صحیح ہے کہ ایک شافع ہے جس نے حق کی گواہی دی اور وہ لوگ اسے خوب جانتے ہیں (یعنی سیدنا محمد ﷺ) اسی طرح ایک اور آیت ہے پارہ ۵ رکوع۶؍۹ ( النساء : ۶۵) اور جب ان لوگوں نے اپنی جان پر ظلم کیا تو اگر وہ تیرے پاس آتے اور اللہ سے مغفرت مانگتے اور رسول بھی ان کے لئے مغفرت مانگتا تو اللہ کو توبہ قبول