ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 428
طرف سے اشارہ ہوا اور ان دس شرائط بیعت کی تفہیم ہوئی۔ایک شخص نے کہا کہ حضور مجھے یہ شرائط تحریر کرنے اور شائع کرنے سے پہلے ہی بتادیں تا کہ میں اوّل ہی عمل کرنا شروع کردوں۔آپ کو یہ سوال بہت بُرالگا۔چنانچہ بعد میں پہلا دشمن حضرت صاحب کا وہی شخص ہوا جو کہ اس قدر جلدی حکم کی تعمیل کرنے کے واسطے تیار تھا۔(۲)بارہ علوم ضروریہ ۱۱؍ اپریل ۱۹۱۲ء کو فرمایا کہ بارہ علم ضروریہ ہیں۔(۱) کل جزو سے بڑا ہوتا ہے۔(۲) ایک جگہ میں دو جسم نہیں ہوسکتے۔(۳) کوئی چیز یا چل کر آوے یا خواہ چل کر جاویں تب اس کو پاسکتے ہیں۔(۴) کوئی چیز گم نہیں ہوسکتی۔(۵) کوئی چیز بے سبب نہیں ہوسکتی۔(۶) زبان بولتی ہے کان سنتے ہیں۔اگر کوئی کہے کہ پاؤں سے بلالوںگا تو یہ ممکن نہیں۔یہ علم ضروریہ ہیں جن کے بیان کرنے یا سمجھانے کی بھی ضرورت نہیںہوتی۔یہ علوم خدا کی طرف سے انسان کو دیئے گئے ہیں۔یہ چھ میں نے بیان کردیئے ہیں باقی چھ میں تم غور کرو۔(۳) فرّاگ کوٹ اور قباء فرّاگ کوٹ کو (جو پیچھے سے پھٹا ہوا ہوتا ہے)عربی میں فوّاج کہتے ہیں اور جو پیچھے سے پھٹا ہوا نہ ہو اس کو قباء کہتے ہیں۔(۴)بیعت کرنے میں جلد بازی ۴ ؍ اپریل ۱۹۱۲ء کو چند آدمی جو شادیوال ضلع گجرات کے باشندہتھے بیعت کرنے کے واسطے آئے۔انہوں نے درخواست کی کہ ہماری بیعت جلدی ہوجاوے۔اس پر فرمایا کہ لوگ جب دنیا کے کتوں اور حاکموں کے پاس جاتے ہیں دیکھتے ہو کس قدر تاریخیں پڑتی ہیں۔ہمارے پاس جو بیعت کے واسطے آئے ہو دیکھنا تو چاہیے کہ ہم کیا ہیں؟ کس قسم کے ہیں؟ دین کوئی ٹھٹھا نہیں ہے۔اگر ٹھٹھا (تمسخر) ہوتا تو بہت سے لوگ اکٹھے ہوجاتے۔دیکھو کنچنی کا تماشا ہوتا ہے لوگ ان کوپیسہ روپیہ بھی دیتے ہیں ساری ساری رات سنتے رہتے ہیں۔کوئی ان پر کفر کا فتویٰ بھی نہیںلگاتا۔