ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 424 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 424

سفر کیا، قرآن مجید سے ظاہر ہے۔صحابہ کے سفر حصول علم کے لئے صحابہ نے حصول علم کے لئے جو سفر کئے ہیں ان کی تفصیل بڑی مہلت اور وقت چاہتی ہے۔جابر۱؎ ایک صحابی کو معلوم ہوا کہ شام میں ایک حدیث ایک شخص کو آتی ہے۔وہاں سے وہ تیس پڑاؤ تھا۔ایک مہینے کے سفر کے بعد وہاں پہنچے اور اس سے وہاں جاکر پوچھا کہ میں ایک حدیث کے لئے آیا ہوں یہ معلوم ہوا ہے کہ تمہیں آتی ہے۔اس نے کہا ہاں آتی ہے۔کھڑے رہو میں سناتا ہوں۔چنانچہ اس نے وہ حدیث سنائی اور جابر تو کھڑے ہی تھے۔حدیث سن کر کہا السلام علیکم اب جاتے ہیں اتنا ہی کام تھا۔اس ہمت مردانہ اور اولوالعزمی کو دیکھو کہ ایک حدیث کے لئے دو مہینے برابر سفر کیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علم کے لئے کیسی محنت کی ضرورت ہے۔جمع احادیث کے لیے امام بخاری کا سفر امام بخاری نے تو حد ہی کردی ہے۔یہ بخارا کے رہنے والے تھے۔جن دقتوں اور مشکلات میں انہوں نے جمع احادیث کے لئے سفر کئے ہیں اس کی نظیر نہیں ملتی۔حیرت ہوتی ہے کہ یہ کس فضل کے آدمی تھے۔آج بخارا میں ہیں توکل موصل، پرسوں مصر، اترسوں شام، بصرہ، کوفہ، مکّہ، مدینہ۔غرض اس وقت کی اسلامی دنیا کے تمام ان مرکزوں میں پھر نکلے ہیں جہاں وہ اپنے گوہر مقصود کا نشان پاتے تھے۔ایک شخص کہتا ہے کہ میں گن نہیں سکتا کہ وہ کتنی مرتبہ مدینہ میں آئے۔غرض علم کی تحصیل کے لئے سفر کی بڑی ضرورت ہے۔۱؎ فٹ نوٹ: جابر رضی اللہ عنہ کا واقعہ یوں لکھا ہے اور ان کی اپنی روایت میں یہ لکھا ہے کہ انہوں نے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بواسطہ پہنچی جس کو بالمشافۃ میں نے آپ سے نہیں سنا تھا۔اس کی تحقیق کے لئے میں نے ایک اونٹ خرید کیا اور اس پر پالان کس کر ایک ماہ کا سفر قطع کر کے ملک شام میں داخل ہوا۔عبد اللہ بن انیس صحابی کے دوازے پر پہنچ کر دربان سے کہا اندر جا کر خبر دو کہ جابر دروازے پر کھڑا ہے۔دربان نے خبر کی۔حکم ہوا۔دریافت کرو کون جابر؟ کیا جابر بن عبداللہ ؟ جابر نے کہا ہاں۔عبداللہ بن انیس یہ سن کر بہت جلدی میں کپڑے سنبھالتے ہوئے نکلے۔سلام اور مصافحہ کے بعد جابر نے پوچھا کہ تمہاری روایت سے مجھے ایک حدیث دربارہ قصاص پہنچی ہے جس کو میں نے خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا ہے۔مجھے خوف ہے کہ مبادا میری یا ر تمہاری موت آجاوے اور اس دولت سے محرومی رہ جاوے۔یہ سن کر عبد اللہ بن انیس نے وہ حدیث بیان کردی۔