ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 423
ر مشینوں کے ذریعہ کپڑا تیار ہونے لگا تویہی لوگ معزز و صاحب ثروت ہوگئے۔اسی طرح کپڑے دھونے، سینے اور کاٹنے کے کام ہیں۔میں نے ایک آدمی کو دیکھا یا سنا کہ وہ صرف کپڑے کاٹتا تھا اور چھ سو روپیہ ماہوار تنخواہ پاتا تھا۔کھٹیک کا کام نہایت حقیر سمجھا جاتا تھا لیکن آج دباغت کا فن اور موچی کا کام عجیب کام ہے اور چمڑے کی فیکٹریوں کے مالک بڑے آدمی ہیں۔اسی طرح پر لوہے کا کام، ڈرائیوری وغیرہ۔علم ادنیٰ چیزوں کو اعلیٰ بنا دیتا ہے پس تم دیکھ لو کہ علم ادنیٰ چیزوں کو کس طرح اعلیٰ بنادیتا ہے۔میں نے ایک کتّا دیکھا کہ اس کی قیمت بائیس سو روپیہ تھی۔محض اس لئے کہ وہ شکار کا علم جانتا تھا۔معمولی باز جو چیل ہی کی قسم کے ہوتے ہیں سو سو روپیہ قیمت پاتے ہیں۔کیوں؟ ان میں ایک علمی وصف ہوتا ہے۔اب یہ بات تم نے آسانی کے ساتھ سمجھ لی ہوگی کہ علم بڑی دولت ہے اور بڑی نعمت ہے۔علم کے لئے سفر ضروری ہے پھر علم کے حصول کے لئے یہ ضروری امر ہے کہ سفر کیا جاوے۔میں اس پر بھی قرآن مجید ہی سے استدلال کرتا ہوں۔چنانچہ فرمایا۔ (التوبۃ:۱۲۲) یعنی ہر جماعت میں سے کیوں چند لوگ سفر کے لئے نہیں نکلتے تاکہ وہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور واپس آکر اپنی قوم کو بیدار کریں۔یہاں علمی ترقی کے سامان ہیں میں یہ امر اللہ تعالیٰ کے فضل و نعمت کے اظہار کے لئے بیان کرتا ہوں کہ یہاں علمی ترقی کے بہت سے سامان ہیں۔کوئی مانے یا نہ مانے مگر میں اپنے ذاتی تجربہ سے کہتا ہوں کہ یہاں علمی ترقی کے لئے بہت بڑے اسباب ہیں اور پھر ایسی علمی ترقی جو دین و دنیا میں بھلائی کا ذریعہ ہو۔اس لئے میں کہتا ہوں کہ اگر کوئی کشمیر سے یہاں آوے تو اس کا فرض ہے،ایران و عرب و افغانستان یا ہندوستان سے آئے تو اس کا فرض ہے کہ یہاں علمی ترقی کرے۔یہ تو ایک ضمنی بات تھی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو علم حاصل کرنے کے لئے ایک لمبے سفر کی ضرورت پیش آئی اور انہوں نے