ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 418
ایسے لوگوں سے بہت دلچسپی نہیں لیتا کیونکہ یہ لوگ مولوی ثناء اللہ کی طرح اپنی مخالفت کو اپنی خیالی ترقیات کا ذریعہ خیال کرتے ہیں مگر باہر سے آئے ہوئے بہت سے خطوط کی بابت ہم کو مفتی محمد صادق نے مجبور کیا ہے اس واسطے ہم نے یہ مضمون ان کو لکھا دیا ہے تاکہ اپنے اخبار میں بطور معیار صداقت کے شائع کردیں۔پھر ہر شخص کو اختیار ہے کہ اپنی اپنی جگہ اس پر غور کرے۔(الحکم جلد۱۹ نمبر ۱۸، ۱۹ مورخہ۱۴،۲۱؍ مئی ۱۹۱۵ء صفحہ۱تا۳ ) مولوی محمد علی صاحب کا حملہ حضرت مسیح موعودؑ اور حضرت خلیفہ اوّل پر مولوی محمد علی صاحب نے اپنے اسی خطبہ میں (جس میں آپ نے ہم پر آیت (اٰل عمران:۸۲)کے متعلق بہت سے انعامات قائم کئے ہیں) حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفہ اوّل پر بھی حملہ کیا ہے اور بیان کیا ہے کہ الآخرۃ سے مرزا صاحب کی وحی مراد لینا قرآن کریم کی وحی کے ساتھ صریح تمسخر اور استہزا ہے حالانکہ ہمارے احباب کو اچھی طرح سے معلوم ہے کہ ۱۹۰۷ء میں جو پارہ قرآن شریف کا حضرت خلیفہ اوّل نے حضرت مسیح موعود کی زندگی میں شائع کیا تھا اس میں یہی معنے حضرت خلیفہ اوّل نے لکھے تھے اور یہی معنے حضور نے اپنی تفسیر القرآن میںلکھے ہیں جو ماہ نومبر ۱۹۰۶ء کے رسالہ تفسیر القرآن میں شائع ہوچکے ہیں۔حضور کے الفاظ یہ ہیں۔کی تفسیر جو خلیفہ اوّل نے کی چونکہ قرآن مجید میں بعض مقام پردار یا یوم ملا کر لایا گیا ہے جیسا کہ آیا ہے وَلَدَارُ الْآخِرَۃِ خَیْرٌ اور اَلْیَوْمُ الْآخِرُ اور دارِ آخرت اور یوم آخر سے مراد حشر کا وقت ہے۔لہٰذا مفسروں نے یہاں اکیلے اَلْآخِرَۃُ سے بھی حشر کا وقت اور قیامت ہی مراد رکھا ہے لیکن ما قبل پر یعنی اور(البقرۃ:۵) پر نظر کرنے سے حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی دووسری بعثت ثابت ہوتی ہے جس کا کہ اِلٰی(الجمعۃ:۳تا ۴)میں ذکر آیا ہے کیونکہ یہاں سے صاف صاف ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت