ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 417
ہے تو بہت سارے چھینٹے ان کے سوائے لوگوں پر بھی جا پڑتے ہیں اور ان کو بھی الہام ہوجاتا ہے۔جیسا کہ عبداللہ بن ابی سرح کو جو کاتب وحی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھا تَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ کا الہام اس وحی کے نزول کے وقت ہوگیا اور بے اختیار اس نے یہ کلمہ اپنے منہ سے نکال دیا مگر یہ امر اس کے واسطے موجب ابتلاء ہوا کیونکہ جس پر یہ وحی نازل ہوئی تھی اس کے بالمقابل ابن ابی سرح کی کیا ہستی تھی اور اس کو کیا کامیابی حاصل ہوسکتی تھی۔حضرت عمر بھی ملہم اور محدث تھے اور اس انبساط کے وقت ان کو بھی حصہ ملا مگر سعادتمندی اور عاقبت اندیشی نے ان کو اصل مامور کا غلام ہی بنائے رکھا اور اس مامور کے خلیفہ اوّل کے خادم صادق ہی بنے رہے۔جس طرح تمام انجمنیں کسی مرکز کے سہارے پر چلتی ہیں اور جس طرح نظام شمسی بھی کسی مرکز سے وابستہ ہے اور جس طرح اعضاء در اعضاء سلطنتوں میں صدر کی حاجت ہے اور جس طرح خاندانوں کے بقا اور اعزاز کے لئے سربراہ کی ضرورت ہے اسی طرح روحانی سلطنتیں بھی ضرور ایک مرکز پر ہوتی ہیں۔کیا کوئی شک کرسکتا ہے کہ اس وقت مختلف مسلمانوں کے عقائد ایک نہیں اور ان کے اعمال میں کس قدر اختلاف ہے۔معارف قرآنیہ کی تو بڑی شان ہے۔اب تو لوگ معمولی طور پر جس قدر قرآن پڑھتے تھے اس کو بھی چھوڑ بیٹھے ہیں اور مدارس قرآن کی رونق کم ہورہی ہے۔عمل بالقرآن تو بڑی بات ہے اور اس سے بے پرواہ ہورہے ہیں۔علماء تو سر تھے اور اہل عرفان ان سروں کے سر تھے اور امراء دونوں کے مطیع اور دونوں کے مطاع تھے۔باقی خلقت ان سب کی متبع ہے۔پھر کیا یہ خلقت آجکل ایسی نہیں کہ قرآن کو چھوڑ کر سب الگ الگ اختلاف میںپڑے ہوئے ہیں۔آجکل ہم سے بعض آدمیوں کے متعلق سوال کیا جاتا ہے جو کچھ اپنے دعاوی لوگوں کے سامنے تحریراً یا تقریراً پیش کرتے ہیں ان کے نام یہ ہیں۔عبدالحکیم پٹیالوی، میاں نبی بخش بٹالوی، میاں محمد بخش جو آجکل گورداسپور میں ہے، مولوی یار محمد مختار، میاں عبداللہ تیماپوری۔انہیں کے متعلق ہم نے یہ مضمون لکھا ہے اور اس میں صادق اور مقبولوں کے نشانات بتلادئیے گئے ہیں۔ہر ایک شخص اپنے طور پر خود غور کرلے اور ان لوگوںکو اس کسوٹی پر پرکھ لے جو ہم نے ان کے سامنے پیش کردی ہے۔میں