ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 412
(صٓ:۲۷)جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خلافت کا عہدہ ان کے سر پر رکھا گیا جو انہیں اٹھانا پڑا۔تاریخ کے پڑھنے سے بھی ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ بعض وقت لوگوں نے کسی کو پکڑ کر جبراً بادشاہ بنا دیا اور جناب الٰہی نے بھی اس کی مدد کی، موقع دیا، زندگی دی، کارکن آدمی دئیے وہ بڑا آدمی بن گیا۔تاریخ ایسے لوگوں کے واقعات سے بھری پڑی ہے لیکن ایسے لوگ بھی نظر آتے ہیں جنہوں نے بڑا بننے کی کوششیں بھی کیں ، زور بھی لگایا، مال بھی خرچ کیا، جتھے بھی بنائے جو کام نہ کرنے کے تھے وہ بھی کر گزرے مگر بڑائی کا تاج ان کے سر پر نہ رکھا گیا پر نہ رکھا گیا اور جب وقت آیا تب بازی کوئی اور ہی لے گیا۔ہمیں اس وقت دنیا اور جہان کے بڑوں کا تذکرہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ہم تو اس وقت مذہبی پیشوائوں کا ذکر کرتے ہیں۔جن کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے بہت سی مخلوق اکٹھی کردی ہے اور ان کو موقع، عمر، توفیق سب کچھ عطا فرمایا ہے۔حیاتی بھی دی آدمی بھی دئیے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور کیا عجب فرماتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم کو بڑا بنانا چاہا تو فرمایا۔(البقرۃ:۱۲۵)۔پھر دیکھو خدا کے بنانے نے کیا کام کیا۔کہتے ہیں نمرود حضرت ابراہیم کے زمانہ میں کوئی بڑا آدمی تھا مگر اب تو تاریخ میں صحیح اس کا نام و نشان بھی نہیںملتا۔یہاں تک کہ یورپ کے لوگوں کو تو شبہ گزرا ہے کہ نمرود کوئی تھا بھی یا کہ نہیں اور قرآن شریف میں بھی نمرود کا کوئی ذکر نہیں بلکہ صحیح حدیثوں میں بھی نہیں۔غرض کچھ ہی ہوا ابراہیم کے دشمن کا نام و نشان دنیا میں نہ رہا۔بالمقابل خود حضرت ابراہیمؑ کویورپ ، امریکہ، تمام یہودی ، تمام نصرانی ، تمام مسلمان آج تک عظیم الشان کہتے ہیں اور عزت و تعظیم کرتے ہیں۔علیہ السلام والبرکات۔غرض اپنی تدبیروں اور ڈھکوسلوں سے کوئی شخص بھی پیشوا نہیں بن سکتا۔مجھے قرآن مجید کے مطالعہ سے یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہوگیا ہے کہ ائمہ دین اور ان کے نواب و خلفاء کا کام سب کام جناب الٰہی کے سپرد ہیں۔وہ خود بھی کسی کو امام اور خلیفہ بناتے ہیں اور آ پ ہی اس کے متولی ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔