ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 411 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 411

خلافت راشدہ ہر چندخلافت راشدہ کی حقیقت اور تمکین کا اظہار پوری شوکت اور قوت سے ہوچکا ہے تاہم ابھی تک بعض برخود غلط اور نافہم لوگ کسی نہ کسی پہلو سے اس حقیقت کو مشکوک کرنے کی بیجا کوشش کرتے رہتے ہیں۔میں نے ارادہ کیا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح اوّلؓ نے خلافت کے متعلق جس قدر تقریریں یا تحریریں کی ہیں ان کو شائع کردیا جائے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے امید ہے کہ وہ حقیقت شناس طبیعتوں کو اس سے بہرہ اندوز ہونے کی توفیق عطا فرمائے گا۔ایڈیٹر اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔بڑا بننا اور بڑا بنانا بھی کوئی فطری امر ہے۔یوں تو ہر ایک شخص کی فطرت میں کچھ نہ کچھ خود داری اور بڑائی کا مادہ ہوتا ہے مگر جو لوگ دنیامیں بڑے ہو کر گزرے ہیں اور وہ کئی اقسام ہیں۔ان میں سے بعض کی نسبت ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ نے براہ راست اپنے فضل سے بڑا بنایا اور ہزارہا نفوس کو ان کی طرف جھکا دیا اور وہ بڑے آدمی بن گئے لیکن جہاں تک ہم نے ان کی نسبت غور کیا ہے ان کے اندر بڑا بننے کی کوئی خواہش ہمیں نظر نہیں آتی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام ہم مسلمانوںکے نزدیک بہت بڑے آدمی ہیں۔ان کو بڑا بنایا گیا اور جناب الٰہی نے فرمایا کہ تو فرعون کے پاس جا لیکن کبھی تو وہ یہ عذر کرتے ہیں کہ میرا بھائی ہارون بہت عمدہ بولنے والا ہے اور کبھی یہ عذر کرتے ہیں کہ فرعون کے متعلق ہم سے ایک غلطی سرزد ہوئی ہے جس سے مجھے ڈر لگتا ہے کہ وہ مجھے قتل کر ڈالے گا۔جائے غور ہے کہ خدا بنانے والا اور موسیٰ اس کی قدرتوں پر ایمان لانے والا مگر کیا عجیب نظارہ ہے کہ کہیں تو اپنی جان کا خوف بیان کرتے ہیں ، کہیں اپنے بھائی کو بڑھ کر بتلاتے ہیں۔گویا کسی طرح بھی اس عہدے کے واسطے خواہشمند نہیں ہیں۔کیا الفاظ فرماتے ہیں۔(الشعراء:۱۴،۱۵)۔حضرت دائود علیہ السلام کا بھی ایسا ہی حال معلوم ہوتا ہے۔ان کے متعلق کہا ہے کہ (صٓ:۲۵)جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ معافی مانگتے ہیں۔اگلی آیت اس مطلب کو صاف کرتی ہے جہاں فرمایا ہے۔