ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 407 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 407

(اس فقرہ کا ترجمہ یہ ہے کہ وہ علم سیکھے اللہ کے لئے، اللہ کی مدد سے اور اللہ میں ہو کر۔شریعت کے احکام کا عالم ہو، نہ فخر کرنے والا اور نہ مقابلہ کرنے والا اور دوسروں سے علمی باتیں کرکے علم کو پکا کرتا رہے اور علم کو بار بار پڑھتا رہے اور ایک دن کا کام دوسرے دن پر نہ ڈالے۔ایڈیٹر) ماہر فن، شریف الطبع ،صالح سے پڑھے۔معلم وسیع الاخلاق ناصح ہو۔تعلیم میں فہم و طاقت کو اور نشاط طالب کو مد نظر رکھے۔عامل بالعلم ہو۔تعلیم کے طریق سے آگاہ ہو۔خلط بحث تعلیم و تعلم میں نہ ہونے پاوے۔وَالْقُرْآنُ کَافٍ وَ شَافٍ بِحَمْدِاللّٰہِ وَ ہُوَ نُوْرٌوَّ ھُدًی وَّ شِفَائٌ وَّ رَحْمَۃٌ۔(یونس:۵۹) (العنکبوت:۵۲)۔(اس عربی عباعت کا ترجمہ یہ ہے کہ قرآن کریم ہی انسان کے لئے کافی ہے اور اس کی ہر مرض کا علاج ہے اور ہم اللہ تعالیٰ کے فضل کا اقرار کرتے ہیں کہ اس نے ہم کو ایسی کتاب دی اور وہ نور ہے اور ہدایت ہے اور شفاء ہے اور رحمت ہے۔( آگے دو آیتیں لکھی ہیں جن کا ترجمہ یہ ہے) پس چاہیے کہ لوگ اسی پر خوش ہوں اور یہ ان سب اشیاء سے جو لوگ جمع کرتے ہیں بہتر ہے۔کیا ان لوگوں کے لئے کافی نہیں ہوا کہ ہم نے تجھ پر ایک کتاب اتاری ہے جو ان پر پڑھی جاتی ہے۔اس میں رحمت اور نصیحت ہے مومنوں کے لئے۔ایڈیٹر) سنا ہے کہ اصول التفسیر ابن قیم، استفتاء والقرآن ،بصائر ذوی التمییز مجدفیروزآبادی عمدہ ہیں۔وہ میں نے نہیں دیکھیں اور شوق ہے۔ایسا ہی قطف الثمر اور مترک الاقران جلال الدین سیوطی سنا ہے عمدہ ہیں۔آپ بہت دعائوں سے عمدہ تفسیر اللہ تعالیٰ سے مانگو یا صرف بلکہ صرف قرآن پر تدبر کرتے رہو۔مدیر المنار نے بنام محمد عبدہ ایک تفسیر نمبر ۲، ۳، ۴ شائع کی ہ مگر اس میں تعصب اور بے جا طول ہے۔علاوہ بریں وہ ہمارا غالی دشمن اور مسیح پر بدزبان ہے۔ہمیشہ اس کے پاس اس کو دشمن یقین کرکے جائو۔ہاں فصیح اللسان والحق یقال۔