ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 400 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 400

میاں صاحب! اللہ تعالیٰ مومنوں کی طرف سے ارشاد فرماتا ہے کہ ان کا قول ہوتا ہے۔(البقرۃ:۲۸۷) اور آپ نے بلا وجہ یہ تفرقہ نکالا کہ صاحب شریعت کا منکر کافر ہوسکتا ہے اور غیر صاحب شرع کا منکر کافر نہیں مجھے اس تفرقہ کی وجہ معلوم نہیں ہوئی۔نیز عرض ہے خلفاء کے منکر پر بھی کفر کافتویٰ قرآن مجید میں موجود ہے۔آیت خلافت جو سورہ نور میں ہے اس میں ارشاد الٰہی ہے کہ (النور:۵۶)۔اور فاسق کو اللہ تعالیٰ نے مومن کے بالمقابل رکھا ہے۔ارشاد ہے (السجدۃ:۱۹)۔بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں میں تفرقہ کنندہ کو قرآن کریم نے کافر فرمایا ہے۔پارہ چھ۶ میں ہے۔(النساء:۱۵۱) پھر فرمایا ہے (النساء:۱۵۱) یہاں تفرقہ بین اللہ و بین الرسل سچ مچ کفر کا باعث قرار دیا ہے۔جن دلائل و وجوہ سے ہم لوگ قرآن کریم کو مانتے ہیںانہیں دلائل و وجوہ سے ہمیں مسیح کو ماننا پڑا ہے اگردلائل کا انکار کریں تو اسلام ہی جاتا ہے آپ اس آیت پر غور فرما دیں۔(البقرۃ:۹۲) دلائل کی مساوات پر مدلول کی مساوات کیوں نہیں مانی جاتی۔کیا آپ کے نزدیک مسلم رسل جو صاحب شریعت نہیں ان کا انکار بھی کفر نہیں میرے خیال میں مَیں اور اکثر عقلمند مرزائی یہ نہیں مانتے کہ تمام مساوی ہیں۔کفردون کفر کے قائل ہیں۔دوسرے سوال کا جواب عرض ہے۔نازل ہونے والے عیسیٰ بن مریم کو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی اللہ فرمایا ہے۔نیز ان الہامات و وحیوں نے جو مرزا صاحب کو منجانب اللہ ہوئیں اگرآپ احادیث کو مانتے ہیں تو آپ لَااِیْمَانَ لِمَنْ لَا اَمَانَۃَ لَـہٗ وَلَا دِیْنَ لِمَنْ لَا عَھْدَ لَہٗ (مسند احمد بن حنبل مسند المکثرین من الصحابۃ مسند انس بن مالکؓ)۔لَا صَلٰوۃَ اِلَّا بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ (القراۃ خلف الامام للبخاری باب وجوب القراء ۃ للامام)۔لَا نِکَاحَ اِلّ