ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 393
نور کی کرنیں حضرت خلیفۃ المسیح اوّل مرحوم مغفور کی نایاب ڈائری ۲۰ ؍ اپریل ۱۹۱۳ء یہ مسجد بھی نشان ہے فرمایا۔یہ مسجد بھی نشان ہے۔جہاں اب درس کررہے ہیں سکھ حکام کی کچہری کی جگہ ہے تم سب کو اللہ نے یہاں پکڑ کر جمع کررکھا ہے۔مولویوں نے کیا کیا زور لگایا مگر خدا کی طاقت کے سامنے کوئی طاقت چل سکتی ہے ؟ نواب، امراء تمام جہان کو مسلمان بنا سکتے۔پھر لوگ کس طرح زور لگاتے ہیں یہاں قادیان کے لوگوں نے زور لگایا۔فرعون کے واقعہ سے عبرت حاصل کرو فرمایا۔موسیٰ کو خدا نے نو نشان دیئے تھے عصا اور ید بیضاء، طوفان، دم وغیرہ وغیرہ۔بنی اسرائیل کے پاس جب موسیٰ گئے تو فرعون نے کہا اے موسیٰ ُتو جادو گر ہے۔موسیٰ نے کہا اے فرعون تو ہلاک ہونا چاہتاہے۔جب رسول کریم ؐ مکہ چھوڑنے لگے تو آپ نے فرمایا۔اے مکہ! میں تو تجھے نہ چھوڑتا مگر یہ قوم مجھے دکھ دیتی ہے۔میں تو تجھ سے محبت کرتا ہوں۔انجام اور نتیجہ پر غور کرو۔ایک طرف فرعون اور دوسری طرف موسیٰ۔مگر انجام اور نتیجہ کس کے ہاتھ رہا۔ان باتوں سے عبرت حاصل کرو۔خدا کے رسولوں پر ایمان لاؤ اللہ کے نیک بندے اولوالعزم رسول بڑے بڑے نشانوں کے ساتھ دنیا میں آتے ہیں۔کچھ پردے ہیں کہ وہ نشان سمجھ میں نہیں آتے۔بہت لوگ ایسے ہیں کہ زمین کے نشان ہوں آسمان کے نشان ہوں کچھ پرواہ نہیں کرتے۔دنیا چند روزہ ہے یہ جاہ وجلال سب کے سب یہاں ہی رہ جاویں گے۔عبرت حاصل کرو فرمایا۔میں نے بہت سے شہروں میں سفر کیا۔مگر وہاں کے علماء خاک میں مل