ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 38
حکمت سے سمجھائو فرمایا۔انہیںمولوی عبدالقادر صاحب کے پاس ایک بڑا پیچیدہ مقدمہ آیا۔انہوں نے اس کی چھان بین میں بہت محنت کی اور فیصلہ کردیا۔جس کے برخلاف فیصلہ ہوا وہ نواب صاحب کا آدمی تھا اس نے جاکر نواب صاحب سے کہا۔نواب صاحب نے اس سے اپیل لے لی اور برخلاف فیصلہ کردیا۔مولوی صاحب نے جب یہ حال سنا تو ان کو بہت حیرانی ہوئی۔کئی دن سوچتے رہے مگر کوئی وجہ سمجھ میں نہ آئی کہ کس طرح نواب صاحب نے فیصلہ کو توڑا ہے۔آخر نواب صاحب کے پاس گئے اور جاکر پوچھا کہ میں نے اس مقدمہ پر بہت محنت کی تھی اور اپنی طرف سے تحقیقات کا کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا تھا۔مجھے اب تک یہ معلوم نہیں ہوا کہ آپ نے کن وجوہات پر بر خلاف فیصلہ دیا ہے۔نواب صاحب نے سرسری کہہ دیا کہ تقدیر ہی ایسی تھی۔یہ بات سن کر مولوی صاحب نہایت ادب سے واپس چلے آئے اور ذرہ بھی ملال کا اظہار نہ کیا۔آکر اجلاس لگایا اور منشی سے پوچھا کہ ہمارے پاس کس قدر امثلہ دائر ہیں۔اس نے بہت سی تعداد بتائی۔کل مثلیں منگوائیں اور ہوشیار منشی ادھر ادھر بٹھا لئے اور حکم لکھوانے شروع کئے۔کسی پر ڈسمس ، کسی پر ڈگری، کسی پر کچھ کسی پر کچھ لکھوانا شروع کیا۔منشی نے پوچھا وجوہ بھی لکھوائو۔مولوی صاحب نے کہا کہ لکھ دو ’’ تقدیر ‘‘۔جب کل مثلوں کا فیصلہ ہوگیا تو ان منشیوں کو حکم دیا کہ یہ سب انبار لدوا کر فلاں راستہ سے گزر کر دفتر میں لے جائو۔وہ راستہ نواب صاحب کی نشست گاہ کے پاس سے گزرتا تھا۔نواب صاحب نے دیکھ کر پوچھا کہ یہ کیا بات ہے؟ انہوںنے کہا کہ مولوی صاحب نے آج کُل متدائرہ مثلوں کا آناً فاناً فیصلہ کردیا ہے اور اب داخل دفتر کرنے کے واسطے بھیج دی ہیں۔نواب صاحب تاڑ گئے۔انہوں نے کہا کہ مثلیں واپس لے جائو اور مولوی صاحب کو بلائو۔جب مولوی صاحب آئے تو پوچھا کہ آپ نے یہ کیا فیصلہ کیا ہے۔مولوی صاحب نے کہا کہ حضور کی رعایا ہے اور حضور کا ہی قانون ہے اور حضور کا ہی یہ فیصلہ ہے۔آپ مجھ سے قسم لے لیں کہ میں نے مثل کو دیکھا بھی نہیں۔آنکھ بند کرکے تقدیر کا فیصلہ لکھتا رہا ہوں۔نواب صاحب نے کہا کہ یہ تو ہمارا خدمت گزار تھا۔مولوی صاحب نے کہا کہ میں بھی آئندہ خدمت گزار کے واسطے ڈگری لکھا کروں گا اور باقیوں کو تقدیر پر چھوڑا کروں گا۔غرضیکہ نواب صاحب