ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 386 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 386

وصیت نوردین کے عنوان سے بہت عرصہ گزرا میں نے الحکم میں حضرت حکیم الامت کی ایک تحریری عربی وصیت شائع کی تھی اور اسے مع اردو ترجمہ برادرم مفتی (محمد صادق )صاحب نے بدر میں چھاپ دیا تھا۔اس کے پڑھنے سے نورالدین کے عقائد کا پتہ معلوم ہوتا ہے۔یہ بہت عرصہ کی لکھی ہوئی ہے لیکن اب جبکہ حضرت خلیفۃ المسیح کی طبیعت ناساز ہے ۴؍ مارچ ۱۹۱۴ء کو بعد نماز عصر یکایک آپ کو ضعف محسوس ہونے لگا۔اسی وقت آپ نے مولانا مولوی سید سرور شاہ صاحب کو حکم دیا کہ قلم دوات لاؤ۔چنانچہ سید صاحب نے قلم دوات اور کاغذ لا کر آپ کی خدمت میںپیش کیا۔آپ نے لیٹے ہوئے ہی کاغذ ہاتھ میں لیا اور قلم لے کر لکھنا شروع کیا۔اس وقت بہت سے احباب مثلاً مولوی محمد علی صاحب، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب، مولوی سید سرور شاہ صاحب ، قاضی سید امیر حسین صاحب ، نواب محمد علی خان صاحب، میاں عبدالحئی صاحب، حضرت صاحبزادہ صاحب، ڈاکٹر حافظ خلیفہ رشید الدین صاحب اور بہت سے بھائی قریباً جماعت قادیان کے سب لوگ موجود تھے۔اور باہر سے بھی میاں چراغ دین صاحب رئیس لاہور( جو حضرت کی علالت کے ایام میں بہت کثرت سے آتے رہے اور ان کی اولاد بھی) ، حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسیٰ اور منشی محبوب عالم صاحب، چوہدری دولت خاں صاحب محکمہ پولیٹیکل کوئٹہ، چوہدری چھجو خان صاحب ملازم محکمہ جنگلات صاحب وغیرہم موجود تھے۔اوّلاً آپ نے مختصر سا حصہ وصیت کا لکھا لیکن چونکہ قلم درست نہ تھا دیسی قلم منگایا گیا۔آپ نے ایک وصیت اپنے قلم سے تحریر کر دی اور مولوی محمد علی صاحب کو دی کہ وہ اسے سنادیں۔چنانچہ انہوں نے بآواز بلند اسے پڑھ کر سنادیا۔پھر آپ نے فرمایا کہ تین مرتبہ سنادو۔چنانچہ تین مرتبہ اس وصیت کو پڑھ کر سنایا گیا۔جب وصیت پڑھی جاتی تھی حاضرین پر رقت کا عجیب اثرتھا۔دل اور آنکھیں روتی تھیں اور خدا تعالیٰ کی عجیب قدرت کا مشاہدہ کررہی تھیں۔حضرت حکیم الامت نے بڑے حوصلہ اور ہمت سے لیٹے لیٹے باوجود ناتوانی کے وصیت کو لکھنے میں کمال کیا۔غرض وصیت جو تین مرتبہ پڑھی جاچکی تو آپ نے فرمایا کہ نواب