ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 382 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 382

مسیح موعود علیہ السلام کو پیش کیا اور آپ کی کامیاب زندگی اور موت کو بطور اعجاز اور نشان پیش کرکے خلافت راشدہ کی تصدیق کی اور پھر آخر میں اپنے وجود کو ایک دلیل کے رنگ میں دکھایا اور بتایا کہ یَسْلُبُ الْمُلْکُ مِنَ الْقُرَیْشِ کی حدیث پڑھاتے ہوئے مجھے خیال آتا تھا کہ قریش میں اب کوئی امیر المؤمنین نہیں ہوسکتا اور مجھے اپنی ذات کے متعلق تو کبھی وہم و گمان بھی نہیں آتا تھا مگر دیکھو خدا تعالیٰ نے مجھے کس طرح خلیفہ بنا دیا۔آخر میں فرمایا۔جائو بڑھو۔ہمیں صحابہ بھی پیارے ہیں اور اہل بیت بھی۔مولوی فاضل میر محمد اسحق صاحب اس وقت موجود نہ تھے وہ بعد میں آئے تو انہیں وحدت کی ضرورت کی ہدایت فرمائی اور نہایت ہی لطیف پیرایہ میں بتایا کہ سعادت، فضیلت اور جوانی پر گھمنڈ نہ کرنا۔پہلا مناظرہ ہے۔خدا کے حضور جھکو اور دعائیں کرو۔پھر بہت دعاکی اور یہ کہہ کر رخصت کیا کہ میرا دل، جان، روح دعا کرتی ہے کہ تم فتح مند ہو۔حفظ مراتب حضرت خلیفۃ المسیح کی طبیعت میں حفظ مراتب کا ہمیشہ خیال رہتا ہے۔۲۱؍ فروری ۱۹۱۴ء کو ۱۰ بجے صبح کے قریب جبکہ آپ کو کھانا کھلایا گیا۔آپ کے سامنے ہمارے بزرگ بھائی میر عابد علی شاہ صاحب استادہ تھے۔شاہ صاحب کو حضرت خلیفۃ المسیح سے بہت محبت ہے اور چونکہ آپ صوفی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ان میں ادب بہت ہے۔وہ حضرت کے سامنے نہایت مؤدب رہتے ہیں۔حضرت نے انہیں دیکھ کر اشارہ کیا کہ آپ چارپائی پر بیٹھ جائیں اور پھر فرمایا۔اَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ نُّـنَزِلَ النَّاسَ مَنَازِلَہُمْ (صحیح مسلم مقدمۃ الامام مسلم ؒ)۔میں بیمار ہوں۔توبہ کی حقیقت خدا تعالیٰ کے پاک لوگوں کو خدا کے دین اور شعار اللہ کی عظمت کے لئے ایک غیرت ہوتی ہے اور