ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 368
فکر کرتے کرتے دور تک پہنچ جاتا تھا۔ایک دفعہ ایک آتشک زدہ میرے پاس آیا۔میں نے جی میں کہا آئو اس کا قرآن مجید سے جو شفا ہے علاج کریں۔فرماتا ہے۔(الدخان:۴۴،۴۵)۔اس لئے میں نے پیغمبری جو میں تھوہر ملا کر ٹکیاں بنائیں اور اسے ایک ٹکیا کھلا دی۔تھوڑی دیر کے بعد بیمار نے یہ کہنا شروع کیا کہ مجھے تو آگ لگ گئی ہے۔میں نے کہا۔گرم پانی پیو۔غرض (الدخان:۴۶تا۴۹) کا نظارہ پیش نظر ہوگیا۔آخر اسی نسخہ سے اس نے صحت پائی۔دوزخ میری دانست میں ہسپتال ہے وہاں گندی بیماریوں کا علاج ہوتا ہے۔جب بیمار اچھے ہوجاتے ہیں نکال لئے جاتے ہیں۔جزیہ بعض نادان جزیہ پر اعتراض کرتے ہیں اور اسے انتہا درجہ کا ظلم قرار دیتے ہیں حالانکہ یہ ایک قسم کا ٹیکس ہے اور ایسے ٹیکس ہر سلطنت میں ہوتے ہیں۔میں نے کپڑوں پر ، گھوڑوںپر، دوکانوں پر غرض ہر چیز پر ٹیکس دیکھا ہے۔مدرسہ، سڑکانہ، مالگزاری کے ساتھ وصول کیا جاتا ہے پھر فیس الگ۔بر خلاف ان کے یہ ٹیکس جس کا دوسرا نام جزیہ ہے ایک بہت ہی قلیل رقم ہے مثلاً ایک کروڑ روپیہ کسی مسلمان کے پاس ہے تو اسے اڑھائی لاکھ روپیہ زکوٰۃ کا دینا پڑے گا مگر ایک غیر مسلم کو صرف ساڑھے چار دینے پڑیں گے اور اس کے معاوضہ میں اس کے جان و مال کی حفاظت کی جائے گی اور مسلمان کو تو علاوہ اڑھائی لاکھ کے جان بھی دینی پڑتی ہے۔باوجود اس فرق بین کے پھر بھی یہ کہنا کہ مسلمانوںنے اپنی حکومت کے زمانے میں غیر مسلموں پر ظلم کیا اور ان پر جزیہ لگایا حد درجے کی بے انصافی ہے۔اہل کتاب عیسائیوں ، یہودیوں کے علاوہ مجوس بھی اہل کتاب میں داخل ہیں جو وید کو کتاب اللہ مانتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اکبر نے ان کی عورتوں سے نکاح کیا۔علماء نے اس معاملہ میں اس کی کچھ مدد نہ کی حالانکہ وہ عین شریعت کے مطابق یہ کام کرتا تھا۔