ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 367 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 367

نے بہت ہی خدمت کی میرا رونگٹا رونگٹا ان کا احسان مند ہے۔ایسا ہی ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب بہت خدمت کرتے رہے ہیں مگر ان کو میرے بچنے کی امید نہ تھی۔ایسے وقت نے خدا تعالیٰ نے ایک بیٹے کی بشارت دی جو اب پوری ہوئی۔فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ۔(ماخوذ از کلام امیر۔البدر جلد ۱۴ نمبر ۲۲ مورخہ ۱۱؍دسمبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۲) جھگڑے کی باتوں سے بچو حضور نے نہایت درد دل سے فرمایا۔مَا ضَلَّ قَوْمٌ مِّنَ الْحَقِّ اِلَّا اُوتُوا الْجَدَلَ۔ہدایت کے بعد قوم گمراہ ہوتی ہے تو اس وقت کہ وہ باہم جھگڑا کرنے لگیں۔پس تم جھگڑے کی باتوں سے بچو۔(ماخوذ از مدینۃ المسیح۔الفضل جلد۱ نمبر ۲۷ مورخہ ۱۷ ؍ دسمبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۱) ملتان جلسہ پر جانے والے وفد کو نصائح احباب ملتان نے اپنے اہل وطن پر حجت پوری کرنے کے لئے ایک جلسہ کی اجازت حضرت خلیفۃ المسیح سے حاصل کی جو ۲۹، ۳۰؍ نومبر ۱۹۱۳ء کو منعقد ہوا اور احباب کے اصرار پُر تکرار پر حضرت خلیفۃ المسیح نے صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو بھی اجازت دے دی کہ ملتان تشریف لے جائیں اور آپ کے ہمراہ حافظ روشن علی صاحب اور مولوی سرور شاہ صاحب اور عاجز راقم (یعقوب علی عرفانی) کو جانے کا حکم دیا اور بعض احباب لاہور کی درخواست قبولیت میں صاحبزادہ صاحب کو فرمایا کہ خطبہ جمعہ لاہور میں پڑھیں۔اس واسطے ۲۷ کی شام کو ہمارا قافلہ قادیان سے چلا۔جب ہم حضرت خلیفۃ المسیح سے رخصت ہونے لگے تو آپ نے ہم سب کو دعا کرکے رخصت کیا۔فرمایا۔میں نے بہت دعا کی ہے۔ملتان میں شیعہ بہت ہیں پر تم چار یار وہاں جاتے ہو نرمی سے وعظ کرو، سخت کلامی نہ کرو، دعاؤں سے بہت کام لو، امیر بنا بنایا تمہارے ساتھ ہے۔(ماخوذ از سفر ملتان۔البدر جلد ۱۴ نمبر ۲۳ مورخہ ۱۸؍دسمبر ۱۹۱۳ء صفحہ۳) شَجَرَۃَ الزَّقُّوْمِ طَعَامُ الْاَثِیْم فرمایا۔جوانی میں طبیعت بڑی دلیر تھی۔بعض اوقات میں