ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 366 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 366

مولیٰ مرتضیٰ قرآن مجید پڑھ لیا کرتے۔اب اس کا مطلب سمجھ میں آیا کہ جزو قرآن بھی قرآن ہے۔پس اس سے یہ مراد ہے کہ وہ آیت (الزخرف:۱۴،۱۵) پڑھ لیتے تھے۔۵۔فرمایا۔علماء میں بحث ہے کہ جس گائوںمیں طاعون ہو اس کے باشندوں کو باہر ڈیرہ لگانا چاہیے یانہیں۔(الزخرف:۱۲) سے یہ مسئلہ حل ہوتا ہے کیونکہ بارش اس گائوںکی زمینوںکو تروتازہ و شاداب کرتی ہے نہ مکانوں کو۔پس گائوں سے نکل کر اس کی زمین میں ڈیرہ لگانا منع نہیں۔(ماخوذ از مدینۃ المسیح۔الفضل جلد۱ نمبر ۲۶ مورخہ ۱۰ ؍ دسمبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۱) مسائل قرآن فرمایا۔قرآن شریف میں بعض مسائل ایسے بھی ہیں جو خاص قسم کے انسانوں کے واسطے ہیں۔مثلاً مسائل حیض صرف عورتوں کے واسطے ہیں مگر بعض مسائل ایسے ہیں جو سب کے واسطے برابر ہیں۔انسانی اختلاف و اتفاق فرمایا۔آدمیوں کے درمیان اختلافات بہت ہیں۔ہر ایک کا کھانا، پینا، پہننا،مال و دولت، مکانوں کا نشیب و فراز سب جدا ہے۔اس اختلاف کا کوئی حد بسط نہیں۔لیکن باوجود اس کے اتفاق بھی ہے اور اگر اتفاق نہ ہو تو انسان کا زندہ رہنا مشکل۔عرب اور یاغستان میں بھی خواتین اور شریف اور امیر ہیں جن کی ماتحتی پر اتفاق کرکے لوگ وہاں امن پاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جتنی کوئی سلطنت بڑی ہوتی ہے اس کا امن بھی بڑا ہوتا ہے۔سلطنت برطانیہ کے ذریعہ سے جو اتفاق ہے اس سے فائدہ اٹھا کر ہم لنڈن، ہند، کینیڈا اور آسٹریلیا تک کی اشیاء منگوا سکتے ہیں۔انسان بالکل شتربے مہار نہیں رہ سکتا۔کوئی کسی قسم کی جوتی یا کپڑا پہنے ہمیں اس اختلاف سے غرض نہیں ہم صرف ان باتوں میں اتفاق چاہتے ہیں جو قرآن شریف نے بیان فرمائیں۔فَحُکْمُہٗ اِلَی اللّٰہِ ہر وقت مدنظر رہے۔ایام علالت میں ڈاکٹرز کی خدمت فرمایا۔جب میں بہت بیمار ہوگیا تھا تو ان ایام میں ہمارے ڈاکٹروں نے میری بڑی خدمت کی۔ڈاکٹر الٰہی بخش صاحب رات کو بھی آتے رہتے انہوں