ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 365 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 365

باوجود اتنی بار فرمانے کے بندہ تو صرف نصیحت ہی سمجھا تھا کہ نصیحت فرما رہے ہیں لیکن حضور کو میرا پچھڑکر جانا کہنا سخت برا معلوم ہوا کیونکہ پھر میں نے عرض کی۔حضور میں نے رخصت کے لئے عرض کی تھی۔کیا آج میں رہ جائوں۔اس پر حضور نے فرمایا۔جائو چلے جائو۔ہم نے تو اجازت دے دی ہے لیکن تم نے یہ شرک بنایا ہے۔پچھڑنا جو لکھا ہے پچھڑنا کیا ہوتا ہے؟ خدا ہی پر بھروسہ چاہیے۔روزی کا اس نے وقت نہیں رکھا۔(البدر جلد ۱۴ نمبر ۲۱ مورخہ ۴؍دسمبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۶) سورۃ زخرف کی ابتدائی آیات کی تفسیر ۶؍ دسمبر ۱۹۱۳ء کو حضور نے سورہ زخرف کا ابتداء پڑھ کر فرمایا۔۱۔(الزخرف:۴)میںجَعَلْنَا پر بڑی بڑی بحثیں ہوئی ہیں کیونکہ مسلمانوں میں ایک فرقہ قرآن کو مخلوق اس بناپر کہتا ہے۔امام احمد بن حنبل فرماتے تھے کہ جَعَلَ کا لفظ بولو نہ کہ خَلَقَ کا۔کے معنے بَیَّنَّاہُ (بیان کیا ہم نے)۔ان معنوں کے رو سے کوئی مشکل نہیں پڑتی۔۲۔(الزخرف:۵)کے متعلق فرمایا کہ اس پر بھی مفسرین نے بہت بحث کی ہے مگر اللہ تعالیٰ نے مجھ پر خاص فضل کیا اور اس کے معنے سمجھائے کہ اَلْکِتٰبِ سے مراد تورات ہے اور اُمّ کے معنے محکمات۔تو مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید کی پیشگوئی تورات کے محکمات میں موجود ہے۔چنانچہ استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸ کو پڑھنے سے معلوم ہو سکتا ہے۔۳۔فرمایا۔(الزخرف:۵) سے(بنی اسرائیل:۵) کے معنے حل ہوتے ہیں۔فرمایا۔جیسے تمہارے خطا کار ہونے سے ہم اس قرآن مجید کے بھیجنے سے نہیں رک سکتے ایسے ہی نشانات بھیجنے سے ہمیں یہ بات نہیں روک سکتی کہ پہلوں نے جھٹلا یا۔۴۔فرمایا۔ہم بچپن سے سنتے تھے کہ گھوڑے کی ایک رکاب میں پائوں رکھ کر دوسری میں رکھنے تک