ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 364
مباہلہ میں ہلاک ہوگیا۔(ماخوذ از کلام امیر۔البدر جلد۱۴ نمبر۲۰ مؤرخہ ۲۷؍ نومبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۲،۳) ہر طرح کے شرک سے بچو برادر سراج الدین صاحب احمدی پنجابی سرسہ سے اپنی حضرت خلیفۃ المسیح کے ساتھ ملاقات کا کچھ ذکر ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔برادران سلسلہ عالیہ احمدیہ ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ خاکسار ۳ ؍ نومبر ۱۹۱۳ء بروز سوموار ۱۰ بجے دارالامان پہنچا۔حضور خلیفۃ المسیح کی خدمت میں حاضر ہو کر شرف زیارت سے مشرف ہوا۔اس دن حضرت خلیفۃ المسیح کو ابھی سخت درد تھی۔باوجود درد کی تکلیف کے حضور مریضوں کو نہایت شفقت سے ملاحظہ فرما کر نسخے دے رہے تھے۔پھر درد سے زیادہ تکلیف ہوجانے کے سبب سے مکان میں تشریف لے گئے۔اس وقت ڈاکٹر صاحب آئے تھے تو درد پر پلستر لگانے کا مشورہ دیا تھا۔آپ نے فرمایا۔اچھا لگا دینا۔پھر حضور عصر تک باہر تشریف نہ لائے۔بعد عصر کے درس کے لئے تشریف لائے اور مسجد اقصیٰ کی طرف چلے۔درد وغیرہ سے اس قدر کمزوری تھی کہ ایک وقت راستہ میں بیٹھ کر مسجد تک پہنچے۔لیکن امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لئے اپنی بیماری کی پرواہ نہیں۔یہی تڑپ ہے کہ لوگ قرآن کریم پر عامل ہوں۔مسجد میں بیٹھتے ہی خاکسار نے رقعہ پیش کیا جس میں خاکسار نے لکھا تھا کہ بندہ اس سال اپنے خسر کے ہمراہ ضلع الٰہ آباد جاتا ہے اور امسال بہت پچھڑ کر جاتا ہے۔حضور دعا فرماویں نیز بندہ کے ہمراہی امرتسر سے آگے کانپور کی طرف چلے گئے ہیں اگر اجازت ہو تو بندہ جاکر ان کو کانپور مل جاوے۔رقعہ پڑھتے ہی فرمایا۔پچھڑنا کیا ہوتا ہے؟ خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرو وہی روزی دینے والا ہے۔پھر کیا پچھڑنا ہوا۔خدا پر بھروسہ چاہیے۔پھر فرمایا۔روزی دینے والا خدا ہے وہ اپنے فضل سے دیتا ہے۔کیا اس نے روزی کے لئے کوئی وقت بتایا ہے۔وہ محض اپنے فضل سے جب اور جس طرح چاہتا ہے روزی دیتا ہے۔اسی پر بھروسہ چاہیے۔