ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 360
خدمت ہوا۔آپ نے زبان مبارک سے فرمایا۔دو سو ۲۰۰درخواست پر کام شروع کرو۔اور بلکہ آپ نے مکرر فرمایا۔ہماری طرف سے پھر لکھو کہ دو سو ۲۰۰درخواست آجانے پر۔۔۔۔شروع کیا جاوے گا۔چنانچہ آپ کی خدمت میں عرض ہے کہ دو سو کی تعداد پوری ہونے پر انشاء اللہ کام شروع ہوگا۔درخواستیں بنام محمد یمین احمدی تاجر کتب قادیان شریف ہوں۔(البدر جلد ۴ نمبر ۱۷،۱۸ مورخہ ۶۔۱۳؍ نومبر۱۹۱۳ء صفحہ ۳) فرزند کی ولادت کا نشان ہمارے موجودہ امام اور سب سے بڑے احمدی کا وجود اپنے آقا کے راستباز ہونے کی سب سے بڑی شہادت ہے اس کی اولاد مرزا غلام احمد مامور من اللہ ہونے کا نشان ہے۔اس کی زندگی اس کی بیماری پیارے مہدی کے دعاوی و صداقت کی مصدق ہے۔آج ہم اپنے ناظرین کو وہ مژدہ جان فزا سناتے ہیں۔اس نشان کا پتہ دیتے ہیں جو دہریہ کو ساکت کرنے اور خدا کے منکر کو مبہوت کرنے کے لئے شہاب ثاقب ہے یعنی حضرت خلیفۃ المسیح کے ہاں اللہ تعالیٰ نے ایک موعود بیٹا آج ۱۸؍ نومبر ۱۳ء کو عطا فرمایا۔یہ موعود اس لئے زبردست نشان ہے کہ اس کی خبر اس زمانہ میں دی گئی تھی جب جماعت کے مخلصین کو قوت کی ظاہری حالت دیکھ کر بے چینی ہو رہی تھی اور انسانی آنکھ و قیاس ہرگز یہ گمان نہ کرسکتے تھے کہ نور الدین کی زندگی کا آفتاب غروب ہو نے سے رک جائے گا۔بڑھاپا، گھوڑے سے گرنا ، دیر تک بیمار ہو کر سخت لاغر ہوجانا سخت مایوسی پیدا کررہے تھے۔اس وقت حضور نے فرمایا کہ میں نے دیکھا ہے کہ میری جیب میں کسی نے ایک روپیہ ڈال دیا۔اس کی تفہیم یہ ہے کہ ایک لڑکا ہوگا۔عجیب بات ہے کہ بظاہر مجھے زیست کی امید نہیں اور اس وقت قوائے رجولیت بھی موجود نہیں۔۱؎ مولود مسعود کا نام محمد عبد اللہ رکھا گیا۔خدا مبارک کرے اور اسم بامسمّی بنائے۔گزشتہ دو شنبہ کو عزیہ کا عقیقہ اور ختنہ ہوا۔سب طرف سے مبارکباد کے خطوط آرہے ہیں حضرت جواب میں ’’جزاکم اللہ‘‘ فرماتے ہیں اور دعا کرتے ہیں۔۲؎ ۱؎(ماخوذ از اخبار قادیان البدر جلد۱۴نمبر ۱۷ تا ۱۹ مورخہ ۲۰؍ نومبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۲) ۲؎(ماخوذ از اخبار قادیان البدر جلد۱۴نمبر ۲۰ مورخہ ۲۷؍ نومبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۲)