ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 359 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 359

رات میری ایسی نازک حالت ہوگئی کہ سمجھا بس اب خاتمہ ہے۔اس وقت بھی مجھے یہی خیال تھا کون سی ایسی تجویز ہو کہ تم مان جائو۔پھر صاحبزادہ بشیر احمد کو فرمایا۔میاں کل جمعہ ہے مگر تم آجانا اگر زندگی باقی ہے تو تمہیں ہفتہ کے روز قرآن ختم کرا دینے کا ارادہ ہے ورنہ میرے بعد اپنے بھائی صاحب سے ختم کر لینا۔قربانی کا فلسفہ سوموار ۱۰؍ نومبر کو عید ہوئی۔دس بجے حضرت خلیفۃ المسیح نے نماز پڑھائی۔خطبہ میں قربانی کی فلاسفی بیان فرمائی کہ تمام کارخانہ عالم قربانیوں پر چل رہا ہے۔صحیفہ قدرت سے اس کی بہت سی مثالیں دیں۔پھر فرمایا۔کوئی آرام، کوئی انعام بغیر قربانی کے نہیں مل سکتا۔جانوروں کی قربانیاں تمہیں سکھاتی ہیں کہ تقرب الی اللہ کے لئے اپنی خواہشات اپنے معتقدات پھر اپنی نفسوں کی قربانیاں دو اور اس کے لئے تیار رہو۔(ماخوذ از مدینۃ المسیح۔الفضل جلد۱ نمبر ۲۲ مورخہ ۱۲ ؍ نومبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۱) آپ کا ایک الہام حضور نے اپنا الہام سنایا۔لَھَا مَا کَسَبَتْ وَ عَلَیْھَا مَااکْتَسَبَتْ۔(ماخوذ از مدینۃ المسیح۔الفضل جلد۱ نمبر۲۳مورخہ ۱۹؍نومبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۱) فصل الخطاب اگرچہ کئی ایک اخباروں میں یہ عاجز شائع کر چکا ہے کہ چار سو درخواست آنے پر اس کے چھاپنے کا انتظام کردیا جائے گا لیکن اب چونکہ امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح والمہدی نے محض خدا تعالیٰ کے فضل سے اپنے قیمتی وقت سے کچھ حصہ اس کی تصحیح و ترمیم پر خرچ کرنا شروع کردیا ہے اور بلکہ کچھ حصہ کتاب حضور نے تصحیح فرما کر اس عاجز کو دیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ کتاب بہت اصلاح طلب ہے۔غرضیکہ ایک سو درخواست ہونے پر میں حضرت کی خدمت میں بمشورہ اور دعا کی خاطر حاضر