ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 35 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 35

مال خرید کر وہاں پہنچاتے ہیں۔چونکہ کئی جگہ ایسی چٹھیاں جاتی ہیں اس واسطے وہ مال بہت جمع ہوجاتا ہے اور اس طرح بعض دفعہ سب کو بجائے فائدے کے نقصان ہوتا ہے۔زراعت میں بھی کبھی بیج بھی واپس نہیں آتا۔مقدمات میں ہر ایک آدمی یقین کرتا ہے کہ میں ہی کامیاب ہوں گا پھر بھی کبھی نتیجہ الٹا ہو جاتا ہے۔آپ (مخاطب شیخ محمد حسین خاں صاحب ڈسٹرکٹ جج تھے) خواہ کتنا ہی سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں پھر بھی اپیل میں کبھی الٹ جاتا ہے۔میرے دل میں اس بات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مفید اور بابرکت چیز بابرکت ہی رہتی ہے۔حدیث کو لو۔جھوٹی حدیثیں بھی ہیں مگر سچی بھی ہیں۔خدا کے فضل سے میرے پاس ایسے مصالحے موجود ہیں کہ میں ان کے ذریعہ سے جھوٹی حدیث کو معلوم کرلیتا ہوں۔یہ ایک ملکہ ہوجاتا ہے۔ہاں غلطی بھی لگ جاتی ہے مگر آخر پتہ لگ ہی جاتا ہے۔ان باتوں میں کثرت اور قلت کا لحاظ کرلیا جاتا ہے۔قوت اور ضعف کا بھی لحاظ کیا جاتا ہے۔جناب الٰہی کی باریک در باریک حکمتیں جس طرح اس کے افعال میں پائی جاتی ہیں اسی طرح اس کے اقوال میں بھی پایا جاتا ہے۔چونکہ افعال میں ایسی باتیں دیکھنے کے لوگ عادی ہوگئے ہیں اس واسطے ان اختلافات کو محسوس نہیں کرتے۔دیکھو ہوائی جہازوں سے بہت نقصان بھی ہوئے مگر لوگ ان کو مفید ہی خیال کرتے ہیں۔اسی طرح الٰہی سلسلہ میں بھی کثرت کا خیال رکھ کر اس کے مفید ہونے کا فیصلہ کرنا چاہیے۔آسمان پر تیر فرمایا۔حدیث میں ہے کہ یاجوج ماجوج جب چڑھائی کریں گے اور اہل زمین پر فتح پالیں گے تو کہیں گے کہ اب ہم نے زمین کے لوگوں کو تو قتل کرلیا ہے آسمان میں بھی تیر چلائیں گے۔میں اس کے یہ معنے لیا کرتا تھا کہ اہل اللہ لوگوں کو جو آسمانی ہوتے ہیں تیر چلائیں گے۔اب ہوائی جہازوں کے ذریعہ ان کی بلندپروازی ظاہر ہورہی ہے۔میرے خیال میں اب یہ لوگ ان جہازوں کے مقابلہ کی کوئی چیز تیار کریں گے۔