ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 355
قادیان کو مجازاً دمشق قرار دینا ایک دفعہ حضرت خلیفۃ المسیح سے کسی غزنوی نے اعتراض کیا کہ جب دمشق موجود ہے تو پھر قادیان کو کیوں دمشق قرار دیا گیا اور کیا وجہ ہے کہ مرزا صاحب مجازواستعارہ زیادہ مراد لیتے ہیں؟ اللہ نے آپ کو خبر دی کہ وہ اعتراض کرنے والے خود مجاز پر مجبور کئے جائیں گے۔چنانچہ کچھ روز کے بعد ایک اس کے بزرگ کا اشتہار آیا جس میں لکھا تھا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ خَرِبَتْ خَیْبَرَ۔پھر اس ملہم نے یہ لکھا تھا کہ خیبر سے مراد قادیان ہے۔تب آپ نے فرمایا کہ اب بتائو خیبر کی موجودگی میں خیبر سے مراد قادیان کس قاعدے سے لیا گیا۔اس کے بعد اس کے دوسرے بزرگ کا خط آیا جس میں الہام تھا مَا سَمِعْنَا بِہٰذَا فِی الْمِلَّۃِ الآخِرَۃِ اوراَلْمِلَّۃُ الْآخِرَۃِکے معنی ملّتِ محمدیہ لکھے تھے۔آپ نے فرمایا۔یہ قول ایک بڑے کافر و مشرک کا ہے اوراس نے ملت آخرہ سے مراد اپنے آباء کا رسمی دین لیا ہے مگر اب ملہم صاحب اس سے مراد ملت محمدیہ لیتے ہیں۔کیا یہ مجاز نہیں ہے؟ تب وہ بہت نادم ہوا۔(ماخوذ از تصدیق المسیح۔الفضل جلد۱ نمبر ۱۸ مورخہ ۱۵ ؍ اکتوبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۸) شاہ ولی اللہ صاحب کو زبان سیکھنے کی نصیحت برادر عزیز ولی اللہ شاہ نے مصر سے اپنے ایک خط میںلکھا کہ قرآن کے فہم کا لطف قادیان میں ہی ہے۔یہاں کے لوگ قرآن پڑھتے ہیں مگر سمجھتے نہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح نے انہیں جواب میں تحریر فرمایا ہے کہ آپ اس واسطے وہاں نہیں گئے کہ مصریوں سے قرآن پڑھیں بلکہ آپ کا یہ کام ہے کہ وہاں زبان سیکھیں اور قادرالکلام ہو کر اہل مصر کو قرآن پڑھائیں۔بیعت کا خط اور اس کا جواب ایک نوجوان جو ولایت میں انجینئر کلاس میںتعلیم حاصل کرتے ہیں ان کے متعلقکئی مہینوں سے خواجہ صاحب اطلاع دے رہے تھے کہ وہ متاثر ہورہا ہے۔آخر اس نے اب سلسلہ عالیہ میں داخل