ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 353 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 353

شافعی والی حدیث میں عبد الرحمن بن سعد بن عمار سعد ضعیف ہے فرمائیے ہم کہاں صحیح حدیث کے تارک ہوئے۔نور الدین (الفضل جلد ۱ نمبر۱۶مورخہ یکم اکتوبر۱۹۱۳ء صفحہ ۱۱) انبیاء کے طرز پر چلو فرمایا۔انسان کی حالت عجیب ہے اگر ذرا سفید بال آجاویں تو کہتا ہے کہ میری عمر تو کچھ بڑی نہیں نزلہ ہوگیا تھا یا کچھ صدمہ پہنچا تھا اس سے بال سفید ہوگئے عمر تو چھوٹی ہے اور اگر ساٹھ سال کو پہنچ گیا ہے تو کہتا ہے اب بھی ضعف کیسے نہ ہو ستّر اسّی سال تو عمر ہوگئی ہے۔غرض کسی زمانہ میں بھی اپنی کمزوری کو قبول نہیں کرتا، تعلّی اور بڑائی چاہتا ہے لیکن کمزوری کا یہ کمال ہے کہ جب کوئی نصیحت کرو اور انبیاء کے طرز پر چلنے کا طریق بتلاؤ کہہ دیتا ہے کیا میں نبی ہوں یا ولی ہوں؟ ایسے لوگ جھوٹے ہیں اللہ تعالیٰ نے ہم کو حکم دیا ہے کہ انبیاء کے اسوئہ پر چلیں اور اس پر بڑی تاکید فرمائی ہے۔چار پیارے فرمایا۔میں نے جب سے ہوش سنبھالی ہے صو۱فیاء ، فقہا۲ء ، محد۳ثین اور فلا۴سفر ہر چہار سے مجھے محبت رہی ہے۔حضرت شاہ ولی اللہ صاحب کے ساتھ مجھے بہت محبت ہے کیونکہ وہ اپنی کتب میں چاروں کے جامع ہوتے ہیں۔شریر سے قطع تعلق رکھو فرمایا۔مومن کو چوکس رہنا چاہئے اور بدمعاش سے قطع تعلق رکھنا چاہئے ورنہ بدمعاش اور مومن اکٹھے رہتے ہوں تو جب اس پر عذاب آتا ہے اس پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔ایک شخص جو آپ بیٹھا غرق ہورہا ہے ہم بھی اس کے پاس بیٹھے رہیں گے تو غرق ہوجائیں گے۔تعجب فرمایا۔مجھے تعجب آتا ہے کہ کانپور میں مرنے والوں کو اخباروں والے شہید کہتے ہیں حالانکہ کسی کو کیا معلوم ہے کہ کس نیت سے وہ وہاں گئے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مرنے والے کے متعلق ایسا زور دینے سے منع کیا ہے کہ وہ ضرور ضرور بہشتی ہے۔پھر تعجب ہے کہ ان مقتولین کے واسطے جنازے پڑھے جاتے ہیں حالانکہ شہداء کے واسطے جنازہ نہیں ہوتا۔