ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 352 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 352

فرمایا۔کوئی بھی نہیں۔تو اس نے حیرت سے کہا۔کیا درگا بھی نہیں۔آپ نے فرمایا۔نہیں وہ بھی نہیں۔ہم تو ایک اللہ کے پرستار ہیں۔اس پر وہ رئیس کچھ دیر تامل کرکے بولا۔مولوی صاحب اب میں سمجھ گیا آپ لوگ دیوی دیوتا کے حدود سے باہر رہتے ہیں اس لئے ان کی ناراضی کا اثر آپ پر نہیں پڑتا اور ہم تو ان کی حدود کے اندر ہیں اس لئے بجز ان کی پرستاری کے چارہ نہیں۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے ہمارے علاقہ سے کوئی نکل کرانگریزوں کے ملک میں چلا جائے تو پھرہمارے بس نہیں چلتا۔خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ جناب آپ بھی دیوی دیوتا کی حدود سے باہر نکل سکتے ہیں کوئی بڑی محنت بھی نہیں کرنی پڑتی۔صرف ایک کلمہ کہنے کی دیر ہے جو لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہ ہے۔(ماخوذ از امر بالمعروف۔الفضل جلد۱ نمبر ۱۶ مورخہ یکم اکتوبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۹) عید کا خطبہ ایک ہے سوال۔اخبار الفضل بابت ۳؍ستمبر ۱۹۱۳ء میں زیر عنوان ’’عید کے احکام‘‘ آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ ’’عید میں صرف ایک ہی خطبہ ہے بیٹھ کر پھر نہیں اٹھتے تھے ‘‘ چونکہ یہ ایک نئی بات تھی اس لئے میں نے ابن ماجہ ، نسائی ، مشکوٰۃ میں حدیثوں کا مطالعہ کیا۔ابن ماجہ میں لکھا ہے(حَدَّثَنَا اِسْمٰعِیْلُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا اَبُو الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ یَوْمَ فِطْرٍ اَوْ اَضْحٰی فَخَطَبَ قَائِمًا ثُمَّ قَعَدَ قَعْدَۃً ثُمَّ قَامَ(سنن ابن ماجہ کتاب اقامۃ الصلٰوۃ والسنۃ فیھا باب ما جاء فی الخطبۃ فی العیدین))اسی کی تائید میں نسائی میں بھی حدیث آئی ہے اور اسی حدیث کو لے کر امام نسائی نے یہ استدلال کیا ہے کہ دوخطبوں میں قعدہ مسنون ہے۔صاحب تلخیص الجبیر نے بیہقی اور ابن ابی شیبہ سے اس روایت کی تائید کی ہے۔جواب از خلیفۃ المسیح۔عید کے دو خطبے میں نے کہیں احادیث صحیحہ میں نہیں دیکھے۔ابن ماجہ کی حدیث میں اسمعیل بن مسلم ضعیف ہے اور نسائی کی حدیث میں عید کے دو خطبوں کا ذکر نہیں۔ہاں جہاں دو خطبے ہوں جیسے جمعہ میں وہاں ہم خود بیٹھتے ہیں۔نسائی کا خلاف نہیں کرتے اوّل