ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 351 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 351

بداعمال فطرۃً اپنے آپ کو ملامت کرتا ہوا تائب ہوجاتا ہے۔حضرت عمر چار برس انکار پر اڑے رہے۔خالد بن ولید جنگ احد میں کفار کا کمان افسر تھا۔میاں محمد بخش کو میری طرف سے بہت بہت شکریہ اور جَزَاکَ اللّٰہ کہہ دینا۔ہم بہت خوش ہوئے اس کے اس سلوک سے جو آپ سے اس نے کئے۔جَزَاہُ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْجَزَاء۔ولی باپ ہے ایک شخص نے عرض کیا کہ ایک لڑکی کو اس کی نانی نے پرورش کیا ہے اس کے پاس پلی اور بڑھی ہوئی ہے اب اس کی شادی کا وقت آیا ہے تو اس کا باپ جس نے کبھی اس کو پوچھا بھی نہ تھا اپنی مرضی کے مطابق کہیں اس کی شادی کرنا چاہتا ہے اور نانی کہیں اور کرنا چاہتی ہے۔حق کس کو ہے؟ حضور فیصلہ فرماویں۔حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ ولی تو باپ ہی ہے اور اسی کو اختیار ہے کہ جہاں چاہے نکاح کرے۔ہر جگہ ایمان کو قائم رکھو ایک شخص نے عرض کیا کہ میں پٹواری ہوں مگر لوگ کہتے ہیں کہ اس ملازمت میں بے ایمانی کا بہت موقع ہوتا ہے نیک آدمی کے واسطے مناسب نہیں کہ ایسی نوکری کرے۔حضرت نے فرمایا۔خود انسان اپنے ایمان کو سمجھ سکتا ہے کہ وہ کس کام کو تقویٰ کے لوازمات کے ساتھ پورا کرسکتا ہے۔بے ایمانی کرنے والا تو نماز میں بھی بے ایمانی کرسکتا ہے۔ہرجگہ نیکی اور بدی دونوں باتوں کا موقع موجود ہے۔ملازمت چھوڑنے کی ضرورت نہیں اپنے ایمان کو قائم رکھو۔(ماخوذ از کلام امیر۔البدر جلد۱۴ نمبر۱۱ مؤرخہ ۲۵؍ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۲) ایک بت پرست رئیس سے مکالمہ ایک بت پرست رئیس نے حضرت خلیفۃ المسیح سے بڑے تعجب کے ساتھ دریافت کیا تھا کہ مولوی جی ! آپ کے گھر میں کوئی بھی دیوی نہیں۔جب آپ نے