ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 34
الہام کے اقسام فرمایا کہ (۱)یا تو زبان بے اختیار ہوجاتی ہے اور کلام جاری ہوجاتا ہے۔(۲) یا ایسی آواز ہوتی ہے جس طرح کٹورے کو چھنکایا جاوے تو بعد میں ایک سُر سی پیدا ہوجاتی ہے۔(۳) یا کسی آدمی کی شکل سامنے آجاتی ہے اور وہ بولنے لگ جاتا ہے اور دل میں القاء ہوجاتا ہے کہ یہ وحی ہے۔(۴) یا اس طرح سے آواز آتی ہے جس طرح دور سے کسی کا سَدّ سنائی دیتا ہے۔اور بھی اقسام ہیں مگر یہ صورتیں میرے دیکھنے میں آئی ہیں۔جھوٹ کا دخل بے جا ایک صاحب کا سوال تھا کہ سچے سلسلہ میں جھوٹ بھی دخل دینے لگ جاتا ہے اس میں کیا حکمت الٰہی ہے؟ فرمایا۔ہر ایک سچائی کے ساتھ جھوٹ لگا ہوا ہے۔حتیٰ کہ گورنمنٹ کا جو رائج الوقت سکہ ہے اس میں بھی جھوٹ اور جعلسازی کا دخل مواد ہے۔ہم نے بعض ایسے روپے دیکھے ہیں جن پر ایک باریک سا نقطہ ہوتا ہے پھر کسی پر دو کسی پر تین۔یہ روپے جعلی ہوتے ہیں اور اس نقطہ کی تعداد اس بات کے اظہار کے واسطے ہوتی ہے کہ اب اتنے لاکھ روپیہ اس قسم کا نکل چکا ہے۔ایک لاکھ بناتا ہے تو ایک نقطہ دے دیتا ہے۔اور جب دو لاکھ بناتا ہے تو دو نقطے دے دیتا ہے۔دنیا کے سارے ہی کارخانے میں سکھ کے ساتھ دکھ موجود ہے۔حدیث ہے تو وہاں بھی جھوٹی اور وضعی حدیثیں موجود ہیں۔پھر ریل کیا آرام کی چیز ہے مگر ساتھ ہی کبھی کبھی کولیژن (ٹکریں) بھی ہوجاتی ہیں جس سے بڑا بڑا نقصان ہوجاتا ہے جہاز کیسے آرام کی چیز ہے مگر اس میں بھی بعض وقت بڑا نقصان پہنچ جاتا ہے۔آگ لگ جاتی ہے، غرق ہوجاتے ہیں۔رؤیا کیسی مفید چیز ہے مگر اس کی بھی تعبیر کبھی سمجھ میں آتی ہے کبھی نہیں آتی۔پھر اس کی تفہیم میں طرح طرح کے مشکلات ہوتے ہیں۔تجارت کا بھی یہی حال ہے۔ایک خبرآتی ہے کہ فلاں مال کی یہاں بہت طلب ہے۔پھر لوگ اپنے گھر کا مال اسباب فروخت کرکے وہ