ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 33
جس نے بیوی کو تین دفعہ حرام کیا سوال ہوا کہ ایک شخص نے غصے میں آکر اپنی بیوی کو تین دفعہ کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے، اب پچھتاتا ہے۔اس کی نسبت کیا حکم ہے؟ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا۔یہ طلاق نہیں ہے بلکہ قسم ہے اس نے اپنی بیوی کو اپنے واسطے حرام کہا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔(المائدۃ:۸۸) اور فرمایا ہے۔ (التحریم:۲)جو شے اللہ تعالیٰ نے تجھ پر حلال کی ہے تو اسے اپنے اوپر کیوں حرام کرتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ (التحریم:۳) اللہ تعالیٰ نے فرض کیا ہے کہ قسموں کو کھول دو۔پس اس شخص پر لازم ہے کہ اپنی قسم کا کفارہ دیوے تاکہ اس کی بیوی اس پر حلال ہوجاوے۔غیر احمدی کے پیچھے نماز ایک شخص نے دریافت کیا کہ ایک غیراحمدی نیک طینت پنجوقتہ نماز گزار حضرت مرزا صاحب کا مدح خوان ان کے دعوے پر غور کررہا ہے۔کیا ایسے شخص کے پیچھے احمدی نماز پڑھ لے؟ فرمایا۔یہ سب ترکیبیں ہیں جو لوگ بناتے ہیں۔میں ایسی تراکیب کو پسند نہیں کرتا۔کلام امیر (رقم زدہ منشی محمد عبداللہ صاحب) اللہ تعالیٰ خود قرآن شریف کی تفہیم کر دیتا ہے فرمایا کہ میں چھوٹی مسجد میں نماز پڑھتا تھا۔بین السجدتین دل میں خیال اٹھا اور میں نے دعا کی کہ خدایا! دھرم پال نے جو ترک اسلام میں مقطعات قرآنی پر سوال کیا ہے اس کا صحیح صحیح جواب مجھے سمجھا دے۔تیرا وعدہ ہے کہ ہم تم کو قرآن شریف کے معانی بتائیں گے اور مشکلات سمجھائیں گے۔معاً دوسرے سجدہ میں جانے سے پہلے مجھے جواب سمجھایا گیا۔جس کو میں نے کتاب نورالدین میں درج کردیا ہے۔