ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 346
شروع میں پڑھی جاتی ہے۔بس جب قرآن کریم شروع کریں گے ہر رکعت اوّل الحمد شریف پڑھ کر الف لام میم سے قرآن کریم شروع کردیں گے دوسری بار الحمد شریف نہیں پڑھتے حالانکہ وہ بھی تو قرآن کریم میں داخل ہے۔نصیحت ایک شخص کو حضرت نے رخصت کے وقت یہ نصیحت لکھ کر دی۔آپ استغفار بہت کیا کریں۔نرمی مزاج میں پیدا ہو، نیک نمونہ بنیں۔گھر سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھ لیا کرو۔بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ بِسْمِ اللّٰہِ عَلٰی نَفْسِیْ وَمَالِیْ وَدِیْنِیْ۔اَللّٰہُمَّ ارْضِنِیْ بِقَضَائِکَ حَتّٰی لَا اُحِبُّ تَعْجِیْلَ مَا اَخَّرْتُ وَلَا تَاخِیْرَ مَا عَجَّلْتُ۔دینی معاملات میں دیانت امانت مدنظر رہے۔معاملہ بہت صاف ہو جھوٹ سے ہر حالت میں ہمیشہ پرہیز رہے۔مجروحین کانپور کی امداد ایک شخص نے دریافت کیا کہ مجروحین وغیرہ کانپور کی امداد میں جو چندہ لوگ کر رہے ہیں اس میں چندہ دے سکتے ہیں ؟ فرمایا۔چندہ دے سکتے ہیں۔امام نے جماعت بنائی ایک شخص کے خط کے جواب میں حضرت خلیفۃ المسیح نے لکھا۔’’السلام علیکم۔ایک نامور مولوی صاحب جو ہند میں مشہور ہیں حضرت مرزا کو ملے اور فرمایا۔آپ امام ، مجدد، مصلح، ریفارمر سب کچھ بنیں صرف مہدی و مسیح کا دعویٰ سردست نہ فرمائیں تو ہم سب آپ کے ساتھ ہیں اسلام کے خادم ہیں۔حضرت مرزا نے فرمایا۔مولوی صاحب ! اگر منصوبہ سے کام کرتا تو اسی طرح کرتا مگر میرا کام حکم کے نیچے ہے۔کیا کروں حکیم صاحب ! میں نے حضرت سید محمد صاحب مجتہد العصر لکھنو اور مولوی محمد تقی صاحب اور سید حامد حسین صاحبان کو دیکھا ہے کیسے کیسے لائق تھے کہ حیرت ہوتی ہے مگر جماعت مخلصین مومنین جو سچ طور پر قرآن کریم کے عامل ہوں تیار کر کے نہ گئے۔آپ بھی ماشاء اللہ لائق ہیں عالم ہیں طبیب ہیں۔آپ کے اندر درد اسلام بھی موجود ہے فرمایئے کس قدر گروہ آپ کے حکم کے ماتحت کام کرتا ہے۔ہمارے ماتحت اللہ تعالیٰ کے فضل سے شیعہ، خوارج، نیچری، وہابی، مقلد، غیرمقلد، پیر پرست، گدی نشین، علماء اور عوام بھی کام کرتے ہیں