ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 343 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 343

مخالفت شدیدہ کے کامیاب ہوجاتی ہے۔اگر امراء پہلے پہلے ساتھ ہوں تو ان کے دل میں بھی غرور آجائے کہ یہ سب کچھ ہماری قوت کی طفیل ہے اور عام نظروں میں بھی تائید الٰہی کا معاملہ مشتبہ ہوجائے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ ومصلحت کاملہ سے یہ پسند فرمایا ہے کہ انبیاء کے ساتھ دینے والوں میں غریب اور ضعیف آدمی ہوں۔ہمارے زمانہ میں دیانند، سرسید احمد خاں اور ایک برہمو ؤں کے لیڈر نے مصلح قوم ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور ایک حضرت مرزا صاحب نے۔خوب پڑتال کر کے دیکھ لو پہلے تین کا ساتھ بڑے امراء نے دیا اور ان کی تعریف کرنے والوں میں، ان کو مدد دینے والوں میں بڑے بڑے لوگ ہیں مگر حضرت مرزا صاحب کا ساتھ بہت غریب لوگوں نے دیا جو مخلوق میں بہت کمزور قوت و مال کے سمجھے جاتے تھے۔میںنے اس معیار کو نہایت صحیح پایا ہے۔یہاں تک کہ حضور کی زندگی میں کوئی اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر کہ یہی بڑا آدمی ہونے کی پہلی سیڑھی ہے، داخل جماعت نہیں ہوا۔ایک دفعہ ایک اکسٹرا اسسٹنٹ آگیاتو میں بہت گھبرایا کہ الٰہی تیرا کلام تو بہت سچا ہے۔آخر وہ نکل گیا۔یہی وجہ ہے کہ انبیاء کے ساتھ والوں پر امیر آوازے کستے رہے اور کہتے کہ  (ہود: ۲۸) مگر رسولوں نے ان کے اس اعتراض کی کچھ پروا نہیں کی اور نہ ان کی خاطر سے ایسے لوگوں کو دھتکار دیا۔۵۔ایک بڑے مشہور پیر صاحب تھے۔مجھے کہنے لگے تم مرزا کے مرید ہوگئے ہمارے مرید کیوں نہیں ہوئے۔میں نے کہا حضرت میں تو حاضر ہوں مگر فرمائیے آپ کے دربار سے مرزا سے بڑھ کر کیا ملے گا۔کہنے لگے میں تجھے نماز پڑھاؤں گا تو پہلا سجدہ عرش پر کراؤں گا۔میں نے کہا سجدہ تو خدا تعالیٰ کو کرنا ہے سجدہ کے لئے عاجزی چاہیے اور وہ زمین پر ہی ہوتی ہے اور پھر قبلہ رُوزمین پر سجدہ کرنے میں(البقرۃ : ۱۴۵) کی تعمیل آجائے گی۔عرش پر سجدہ کرنے کی سرکاری اجازت بھی خدا جانے ہے کہ نہیں اگر وہاں کی پولیس دخل بیجا میں مجھے گرفتار کرے تو میں کیا کروں گا۔آپ کا مقام تو خدا جانے اس سے آگے کتنے فاصلہ پرہو۔