ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 342 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 342

ایسے پاک خیالات رکھتا ہے کہ بغیر یقین و اطمینان کے اسے کبھی دوسروں کے سامنے پیش نہ کرتا۔۲۔ایک مولوی صاحب یہاں آئے اور مجھے کہاکہ مسیح موعود کے ساتھ تو دو فرشتے ہوں گے۔مگر تمہارے مرزا کے ساتھ تو میں کوئی فرشتہ نہیں دیکھتا۔اس روز جمعہ تھا میں باتوں ہی باتوں میں انہیں مسجد کے قریب لے آیا۔دروازے کے پاس پہنچ کر میں نے کہا۔مولوی صاحب حدیث میں آیا ہے کہ جمعہ کے روز مسجد کے دروازے پر دو فرشتے ہر آنے والے کا نام لکھتے جاتے ہیں اس دروازے پر تو نظر نہیں آتے آپ اس دوسرے دروازے کو دیکھتے آیئے شاید وہاں کھڑے ہوں۔بہت ہی ناد م ہوا اور پھر یہ اعتراض مجھ سے نہیں کیا۔۳۔لاہور میں ایک وکیل مجھے کہنے لگا کہ مرزا صاحب مجنون ہیں اور یہ دعویٰ اسی جنون کا نتیجہ ہے۔میں باتوں ہی باتوں میں اسے پاگل خانے لے گیا۔وہاں کا مہتمم میرا واقف تھا اس لئے ہمیں اندر جانے میں کچھ دقت نہ ہوئی۔اس ڈاکٹر سے میں نے سوال کیا کہ جنون کی تعریف کیا ہے؟ اس نے کہا یہ تو بڑا مشکل سوال ہے اور کسی کو مجنون کہنا آسان نہیں کیونکہ ہمارے نزدیک تو ایک چور ایک زانی بھی جنون سے خالی نہیں۔میں نے کہا اگر کوئی وکیل کسی شخص پر جنون کا فتویٰ دے دے تو کیا وہ صحیح مان لینے کے قابل ہے۔کہنے لگا وہ تو بیوقوف ہے۔میرے خیال میں ایسا وکیل خود مجنون ہے۔غرض اس ڈاکٹر نے اس مسئلہ کو ایسامشکل بتایا کہ وکیل سخت نادم ہوا۔میں نے اسے کہا کہ آدمی کے سات قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔اپنے رشتہ داروں سے، اپنی اولاد سے، اپنی بیوی سے، اپنے احباب سے، اپنے بادشاہ سے، اپنے ملازموں سے، اپنے مولیٰ سے۔ان سب میں مرزا صاحب کو دیکھ لو کیسے عمدہ و کامل تعلقات ہیں۔کیا ان میں کوئی بگاڑ پیدا ہوا۔کیا وہ ایسا اسوہ حسنہ نہیں کہ ایک جہان اس کی تقلید کرے۔ان حالات کو دیکھتے ہوئے جو انہیں مجنون سمجھے اس کے آپ کو مجنون ہونے میں شک ہے۔۴۔انبیاء علیہم السلام کا ساتھ اوائل میں ہمیشہ غریب اور ضعیف لوگ دیتے ہیں۔اس میں حکمت یہ ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی حکمت کا جلوہ دکھائے۔ایک چھوـٹی سی جماعت آخر باوجود