ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 341 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 341

جواب حضرت خلیفۃ المسیح نے اس خط کے جواب میں لکھا۔مولٰنا ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہٗ سالہا سال کے بعد مکرمت نامہ باعث سرور ہوا۔جَزَاکَ اللّٰہُ اَحْسَنَ الُجَزَاء۔پر خوب لکھا ہے۔اَللّٰہُ یَجْزِیْکَ۔مگریوں کیوں نہ کہا جاو ے یاد کرو جب تم نے ایک جی کو قتل کیا اور لگے ایک دوسرے پر تھوپنے۔اللہ تعالیٰ نکالنے والا ہے جو تم چھپاتے ہو۔تب ہم نے کہا قاتل کو ماردو اور یہ قتل تو بعض نفوس کے بدلہ ہے۔تمہیں کیا معلوم کتنے آدمی اس قاتل نے مارے کیونکہ  (المائدۃ:۱۶) آیا ہے اور آئندہ اس کے ہاتھ سے قتل ہونے والے بچ گئے۔جیسے فرمایا۔(البقرۃ:۲۸۰) دعاگو نورالدین ۸؍ رمضان المبارک ۱۳۳۱ھ (البدر جلد۱۴ نمبر۷ مؤرخہ ۲۸؍ اگست ۱۹۱۳ء صفحہ۳) تصدیق المسیح از زبان در افشان خلیفۃ المسیح ۱۔ایک دفعہ میں نے حضور میں عرض کیا، خصم کے بعض اعتراض ایسے ہیں کہ ان کا جواب مفصل دینا مشکل ہے اس لئے میرا ارادہ ہے کہ الزامی جواب دے دوں یا اس سوال ہی کو چھوڑ جاؤں۔ارشاد فرمایا۔مولوی صاحب ! کیا آپ اپنے مخالف کو وہ بات منوانی چاہتے ہیں جس کے لئے آپ کے پاس دلائل نہیں یا جو ابھی پورے طور سے آپ پر بھی نہیں کھلی۔میں تو اس بات کو سخت ناپسند کرتا ہوں کہ کسی کو وہ بات ماننے کی تحریک کی جائے جس پر اپنے آپ کو پورا اطمینان نہ ہو۔اس وقت مجھے یقین ہوگیا کہ یہ شخص ضرور ضرور راستباز ہے اور اس کا سینہ صداقت کا گنجینہ ہے۔یہ اپنے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکالتا جب تک کہ اسے اس پر کامل یقین نہیںہوتا۔اس نے جو دعویٰ کیا ہے اس کا لفظ لفظ درست ہے اور اس میں ذرا بھی شک نہیں۔ورنہ یہ