ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 340
(۲) میں ضمیر منصوب کا مرجع معنوی یعنی قتل سمجھا جائے جو لفظ کا مصدر ہے جیسے آیۂکریمہ (المائدۃ:۹) میں لفظ کا مرجع معنوی عدل ہے جو کا مصدر ہے۔اور جس طرح آیت (النساء:۱۶۰) میں بہ کی ضمیر مجرور کا مرجع معنوی صلب ہے جو کا مصدر ہے۔اب اس صورت میں کی تفسیر یہ ہوگی بَیِّنُوْہُ بِبَعْضِھَا اَیْ بَیِّنُوا الْقَتْلَ بِبَعْضِ الْاُمُوْرِ النَّفْسِ۔سرسید نے بھی برخلاف دیگر مفسرین کے کا ضمیر مؤنث راجع الی النفس لکھا ہے لیکن بہ کی ضمیر مذکر کا مرجع بتانے میں کوتاہی کی ہے۔اب (البقرۃ:۷۴) کی تفسیر کے متعلق گزارش ہے کہ اہل عرب اپنے محاورہ میں جن مقتولوں کا قصاص لے لیا جاتا تھا ان کو اَحْیَائٌ اور جن کا قصاص نہیں ملتا تھا ان کو اَمْوَاتٌ کہا کرتے تھے۔چنانچہ حارث بن حِلّزۃ الیشکری البکری ساتویں معلقہ میں کہتا ہے۔اِنْ نَبَشْتُمْ مَا بَیْنَ مِلْحَۃَ فَالصَّا قِبِ فِیْہِ الْاَمْوَاتُ وَالْاَحْیَآئُ شارح زوزنی اس شعر کی تشرح میں لکھتا ہے۔فَسَمَّی الَّذِیْ لَمْ یُثْأَرْبِھَا اَمْوَاتًا وَالَّذِیَْ ثُئِرَبِھِمْ اَحْیَآئٌ لِاَنَّھُمْ لَمَّا قُتِلَ بِھِمْ مِنْ اَعْدَائِھِمْ کَاَنَّھُمْ عَادُوْا اَحْیَآئً اِذْلَمْ تَذْھَبْ دِمَآئُھُمْ ھَدَرًا(شرح المعلقات السبع للزوزنیصفحہ ۲۷۶)۔پس اس تقدیر پر کے یہ معنے ہوئے اسی طرح اللہ بدلہ لیتا ہے (الموتٰی) کا یعنی ان مقتولوں کا جن کا بدلہ نہ لیا گیا ہو۔چونکہ یہ معنے دفعۃً میرے ذہن میں آئے ہیں جب تک کہ نظر اشرف سے نہ گزر جاویں اس وقت تک میں ان پر پورا بھروسہ نہیں کرسکتا۔اگر یہ معنے درست نہ ہوں تو خاکسار کو متنبہ فرما دیا جائے زیادہ۔والسلام خاکسار عبیداللہ احمدی پروفیسر عربی ہائی اسکول از ریاست رام پور معروضہ ۶؍ اگست ۱۹۱۳ء