ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 32
حالت طلباء پانچ گروہ ہیں۔علماء۱، صو۲فیاء، امر۳ا، طلبۃ۴ العلوم اور عوام ۵الناس۔امیر یہچاہتے ہیں کہ ہمیں کوئی دکھ نہ دے اور ہم مزے اڑاتے رہیں۔علماء شرعی احکام پر عامل نہیں رہے۔گدی نشینوں کو یہ خواہش ہے کہ ہماری طرف لوگوں کا رجوعات ہو اور بس۔خدا اور رسول کی فرمانبرداری سے نہ خود ان کو غرض ہے نہ دوسروں کو چلانا چاہتے ہیں۔طالب علموں پر بہت مصیبتیں ہیں۔لڑکوں کے اصلی نگران نہیں رہے۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ہے کہ اَلْمَرْئُ عَلٰی مَذْھَبِ خَلِیْلِہٖ(مسند احمد بن حنبل مسند المکثرین من الصحابۃ مسند ابی ہریرۃؓ حدیث نمبر ۸۰۲۸) آدمی اپنے دوست کے مذہب پر ہوتا ہے۔لڑکے ایک دوسرے کی صحبت میں وہ وہ باتیں سیکھتے ہیں جو ان کے شیطان کو بھی معلوم نہیں ہوتیں۔خشیۃ اللہ کا کوئی علم ان کو نہیں پڑھایا جاتا۔پندرہ برس انگریزی پڑھتے رہیں اس میں خشیۃ اللہ کا ایک مضمون بھی نہ آوے گا۔جو عربی پڑھائی جاتی ہے وہ بھی خشیۃ اللہ کے خلاف کہتی ہے۔تصوف اور اسلامی تاریخ درس میں سے نکال دی گئی ہیں۔کیا مصیبت کا وقت ہے۔ان کے تفسیر پڑھنے کا یہ حال ہے کہ ایک شخص جو میرا ہم جماعت تھا اور تفسیر بیضاوی پڑھا کرتا تھا اس نے ایک دن فضل الدین صاحب سے کہا کہ حکیم جی تفسیر بیضاوی کا جو متن ہے یہ بڑا عجیب معلوم ہوتا ہے۔یہ کہیں سے مل جاوے تو بہت عجیب ہو۔حکیم صاحب نے ہنس کر کہا کہ اس کا ملنا تو دنیابھر میں مشکل ہے۔پھر باوجود علم سے اس قدر بے خبری کہ میں دیکھتا ہوں کہ بعض طالب علم مڈل میں پہنچ کر مذاہب پر ریویو کرنے لگ جاتے ہیں۔ایک شخص نے اپنے باپ کو تو حضرت صاحب کا مرید کیا اور پھر خود کچھ عرصہ کے بعد دہریہ ہوگیا۔ایک دن مجھے قادیان میں کہا کہ کوئی طاقت آپ کے پاس ہے کہ میری تسلی کرادیوے؟ میں نے کہا کہ میں چپ کرادوں گا۔میں نے کہا کہ تم کوئی اعلیٰ سے اعلیٰ دلیل سناؤ۔جو دلیل اس نے سنائی اس کا جواب مجھے اچھا سوجھا۔میں نے اس کو ردّ کردیا اور کہا کہ یہ دلیل تو تمہاری لغو ہے۔وہ چپ ہوگیا اور کہا کہ میری ابھی تسلی نہیں ہوئی۔میں نے کہا کہ یہ اللہ کے اختیار میں ہے۔(۹ ؍مارچ ۱۹۱۲ء) (البدر جلد۱۱ نمبر۲۵ مؤرخہ ۲۸ ؍مارچ ۱۹۱۲ء صفحہ ۳)