ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 325 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 325

بپتسمہ سے شفا نہیں پاتا۔مسیح جب شیطان پر فتح یاب ہوا تو تمام مسلمان جو مسیح کے مخالف ہیں اور مسیح فرماتا ہے جو ہمارا مخالف نہیں وہ ہمارا ہے، مسلمان بھی نجات پائیں گے۔۵۔مسئلہ تثلیث وکفارہ میں دعویٰ ہے۔اس میں عقل کو دخل نہیں۔الٰہی کلام سے اس کو قائم کرو۔اور خیال نہیں کرتے اگر عقل کا دخل باقی نہ رہے تو کسی غلط مذہب پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔ایک سناتن دھرمی کہہ سکتا ہے کلام الٰہی بت پرستی کا حکم دیتی ہے ، مجوسی کہہ سکتا ہے کلام الٰہی آگ کی پرستش کی رہنمائی فرماتی ہے، آریہ کہتا ہے روح، زمانہ، مکان، پھرکرتی اور پرمیشر کے غیر مخلوق ہونے پر وید کلام الٰہی رہنما ہے اور بس۔۶۔مسیحی فلسفی (ارنلڈ) نے کہا۔تثلیث اور کفارہ کے سمجھنے میں ایشیائی عقلیں قاصر ہیں۔میں نے کہا کہ خداوند نے ایشیائی جسم میں جنم لیا ہاں پطرس وغیرہ سب ایشیائی تھے۔وہ تو اس کے ناواقف ثابت ہوئے۔اس لئے مسئلہ ایجاد یورپ ہے۔۷۔دعاوی اناجیل کو انجیل مدلل نہیں کرتی۔اسلام پر جواعتراض کرتے ہیں ان سے انجیل ساکت ہے اور جرح کو مدلل اور مبرہن نہیں کرتے۔جہاد، غلامی، کثرت ازدواج، طلاق پر نالاں ہیں۔لاکن توریت کے جہاد، خود ان کے قومی مذہبی جہاد ناگفتہ بہ ہیں۔غلامی، جنگی قیدی، جیل خانوں میں اور مسلمانوں کے یہ قیدی بچوں کی طرح گھر بلا پردہ رہیں۔کثرت ازدواجی کے … مگر تقویٰ کا حال ناگفتہ بہ۔کنچنیوں کا لشکر میں ہونا ضروری ہے۔نور الدین (البدر جلد ۱۳ نمبر ۱۵ مورخہ ۱۲؍ جون ۱۹۱۳ء صفحہ ۵، ۶) کوئی خاتون حج پر جانے والی حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ نے دریافت فرمایا ہے کہ اگر کوئی احمدی خاتون اس سال حج پر جانے والی ہو تو مطلع کرے۔ایک شریف خاتون کے ساتھ اس کا ساتھ ہوسکتا ہے۔(البدر جلد۱۳ نمبر۱۷ ؍مؤرخہ ۲۶ جون ۱۹۱۳ء صفحہ۲)