ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 322
کرلے کہ ضرورت کے وقت جو دعا مانگوں وہ قبول کرلینا۔چنانچہ اب خدا کا فضل شامل حال ہے جب کسی ایسے اڑے وقت میں دعا کی خدا نے قبول فرمالی اور یہ اس جامعہ دعا کی قبولیت کا نشان ہے۔غرض دعائیں بھی وہی پسندیدہ ہیں جو خود خدا تعالیٰ سکھائے اور اس کے انبیاء اس سے مانگیں۔دعا میں مسئول کی تعریف ہوتی ہے اور سائل کا حال اور پھر عرض مدعا۔چنانچہ حضرت نوح دعا فرماتے ہیں۔(ھود :۴۸) اللہ تعالیٰ کو غفور الرحیم کہہ کر اپنے مسئول کی تعریف کی ہے اور عرض کرکے اپنی کمزوری کا اقرار کیا ہے اور پھر دعویٰ نہیں کیا کہ میں ایسے سوالات نہیں کروں گا بلکہ اس کے لیے بھی جناب الٰہی سے استعانت کی ہے کہ انبیاء کا غایت درجہ ادب ہے۔حضرت آدم علیہ السلام نے (الاعراف:۲۴) میںاپنی کمزوری اور نقصان زدہ ہونے کا اقرار کیا اور خدا کی کمزوریوں سے محفوظ رکھنے والی اور نیک اعمال پر نیک نتائج مرتب کرنے والی صفت سے استمداد کی ہے۔حضرت موسیٰ نے ایک دعا کی ہے جس میں اپنی کمزوری اور حاجت کا اظہار کردیا ہے اور صفت ربوبیت سے استعانت کی ہے۔ (القصص:۲۵) اور تقرر مقصود نہیں کیا۔یہ دعا بہت جامعہ ہے۔(البقرۃ :۲۰۲)۔مگر حضرت یونس کی دعا بھی اپنے اندر بہت سے اسرار رکھتی ہے۔وہ یہ ہے (الانبیاء :۸۸)۔پہلےسے مسئول کی تعریف کی ہے اور اسے مبدء تمام فیوضات کا اور اپنی ذات میں کامل اور صمد قبول کیا