ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 323
اور سے اس پر بہت زور دیا۔ (الانعام:۱۸)( اگر تجھے اللہ کسی تکلیف میں ڈالے تو اس کا دور کرنے والا بھی اس کے سوا کوئی نہیں) کے ماتحت دکھ درد دور کرنے والا اللہ ہی کو مانا اور اسے تمام نقصوں سے منزہ اور تمام عیبوں سے مبرا جانا۔دوسری طرف (الشورٰی :۳۱) (جو تمہیں مصیبت پہنچے وہ تمہارے اپنے ہی ہاتھوں سے ہے )کے موافق اس مصیبت کو اپنی کسی کمزوری کانتیجہ قرار دیا پھر سے تمسک کرکے اپنی مصیبت میں پڑنے اور اپنی کمزوری کا اقرار کیا کہ ۔گویا استغفار کیا کہ توحید ہے اور توحید فاتح ابواب خیر ہے اور استغفار مغلق ابواب الشر ہے اور اس دعا میں سب کچھ ہے اور اس پر صادق آتا ہے (الانبیاء :۹۱)۔(تشحیذالاذہان) (ماخوذ از کلام امیر۔البدر جلد۱۳ نمبر۱۳ مؤرخہ ۲۹؍ مئی ۱۹۱۳ء صفحہ۳تا۵) اخبار الفضل کے اجراکے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح کی رائے میں (حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ۔ناقل)نے اس امر کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح سے مشورہ لیا تو آپ نے جو کچھ اس پر تحریر فرمایا وہ جماعت کی آگاہی کے لیے نقل کیا جاتا ہے۔ہفتہ وار پبلک اخبار کا ہونا بہت ہی ضروری ہے۔جس قدر اخبار میں دلچسپی بڑھے گی خریدار خودبخود پیدا ہوں گے۔ہاں تائیدالٰہی، حسن نیت، اخلاص اور ثواب کی ضرورت ہے۔زمیندار، ہندوستان، پیسہ میں اور کیا اعجاز ہے۔وہاں تو صرف دلچسپی ہے اور یہاں دعا، نصرت الٰہیہ کی امید بلکہ یقین۔تَوَکُّـلًا عَلَی اللّٰہِ کام شروع کردیں۔نورالدین (دستخط) پیغام صلح سب انتظام مکمل ہوچکا تھا کہ لاہور سے ایک دوست نے پیغام صلح کا پراسپکٹس ارسال کیا۔پیغام صلح کا ذکر تو پہلے سن چکا تھا لیکن پہلے تو ایک دوست نے بتایا کہ ابھی اس کی تجویز معرض التواء میں رکھی گئی ہے جب تک کہ خواجہ صاحب کے رسالہ کے لئے انتظام مکمل نہ ہوجائے۔